site
stats
شاعری

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی

شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی

وہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی
یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی

اس شور تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی

خوددار ہوں کیوں آؤں در اہل کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی

اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چھن کے ضیا تک نہیں آتی

یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی

کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر
اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی

چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوت گل میں
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی

یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا
ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی

بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانہ غم سے
اس سرد گپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی

***********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top