تہران (22 جولائی 2026): ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات 2 فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی اصولوں کے منافی اقدامات کی روک تھام کو یقینی بنائے۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ عراقچی نے دونوں فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات تسلیم شدہ سفارتی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انھوں نے کہا تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کا طرزِ عمل ’ناقابلِ قبول‘ ہے، غیر ملکی سفارتی مشنز پر میزبان ملک کے قوانین اور ضوابط، نیز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
فرانس میں نئے تعلیمی سال سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر بڑی پابندی عائد
دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
دوسری جانب فرانس نے پیر کے روز کہا تھا کہ تہران میں اس کے سفارت خانے کے دو اہلکاروں کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا، جب کہ ان میں سے ایک کے ساتھ ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں نے بدسلوکی بھی کی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اس واقعے کو ان کے سفارتی استثنا کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ اور کہا یہ دونوں سفارت کار ایرانی عوام اور علمی برادری کے ساتھ ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
اس واقعے کے سلسلے میں فرانس کی وزارتِ خارجہ نے بھی منگل کے روز پیرس میں تعینات ایران کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا۔


