تہران : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطے میں تازہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور ایران کے جوابی اقدامات کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ، جس کے باعث عالمی سطح پر ہنگامی سفارت کاری تیز ہو گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت دنیا بھر کے وزرائے خارجہ سے رابطے کئے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عباس عراقچی نے ترکیہ، برطانیہ، عراق، سعودی عرب، قطر اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے بھی ہنگامی ٹیلیفونک رابطے کیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے تمام ہم منصبوں کو اسرائیلی کارروائیوں اور ان کے جواب میں ایران کے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
گذشتہ روز وفاقِ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا خصوصی خط ایرانی قیادت اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیا۔
ملاقات کے دوران امریکا ایران مذاکراتی عمل، خطے کی نازک صورتحال اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی مخلصانہ کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ کا یہ شدید بحران جلد ختم ہو جائے گا۔
ایران کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ باقر قالیباف نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوج کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے:
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، وہ نہ جنگ بندی کو مانتے ہیں اور نہ بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری ناکہ بندی اس کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف بحری ناکہ بندی اور صیہونی حکومت کے لیے امریکی گرین سگنل نے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو ایران کے جائز اہداف میں تبدیل کر دیا ہے۔


