پیر, جولائی 20, 2026
اشتہار

حضرت مولانا جامی کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

عالم اسلام میں مولانا نور الدین عبد الرحمٰن نقش بندی المعروف جامی کا نام صوفیانہ شاعری اور ایک روحانی شخصیت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری اور ان کے تصوف پر مبنی افکار کا اثر ایک طرف ایران و ترکیہ سے لے کر ہند و پاک اور وسطی ایشیا تک، تو دوسری طرف افریقا کے شمال اور مشرقی یورپ تک پایا جاتا ہے۔ آج حضرت جامی کا یومِ وفات ہے۔

وہ صوبۂ خراسان کے قصبہ خرجرد میں 1414ء کو پیدا ہوئے تھے۔ محققین کے مطابق ان کے والد نظام الدین احمد بن شمس الدین ہرات چلے گئے تھے، مگر ان کا اصل وطن ’’دشت‘‘ (اصفہان کا ایک شہر) تھا، اسی لیے اوّلاً انھوں نے ’’دشتی‘‘ تخلّص اختیار کیا۔ دورانِ تعلیم سعید الدین محمد کاشغری کی صحبت میں تصوف کی طرف مائل ہوئے اور بعد میں اپنی صوفیانہ شاعری اور مشہور نعتیہ کلام کی وجہ سے تاریخی شخصیت کے طور پر ان کو یاد کیا جانے لگا۔ حضرت جامی نقش بندی سلسلے کے معروف بزرگ خواجہ عبیداللہ احرار سے بھی گہری عقیدت رکھتے تھے اور انہی کی خانقاہ سے تعلیمِ باطنی اور سلوک کی تکمیل کی۔ اوائلِ عمری میں اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند جانے کا موقع ملا جہاں علم و ادب کی تحصیل کے علاوہ دینی علوم اور تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کے بعد انھوں نے سعد الدین محمد کا شغری سے تصوّف کا درس لیا۔ جامی ایک صوفی اور اپنے دور کے جیّد عالم و عاشقِ رسول مشہور تھے۔

صوفیانہ شاعری اور نعت گوئی میں اُن کا نام بہت بلند ہے۔ کہتے ہیں‌ کہ انھوں‌ نے تقریباً 16 مرتبہ حجِ بیت اللہ کیا اور مدینہ منوّرہ میں رہنے کی سعادت پائی۔ انھوں نے شاعری میں تصوّف اور روحانیت کے موضوع پر لازوال کتب تخلیق کیں۔ ان سے منسوب تصانیف میں ’’سلسلۃُ الذھب، خرد نامہ سکندری، مثنوی یوسف و زلیخا، لیلیٰ مجنوں، فاتحۃ الشباب، خاتمۃُ الحیات اور شرح ملّا جامی‘‘ کے علاوہ ایک نثری کتاب ’’بہارستان‘‘ شامل ہے۔ مشہور ہے کہ وہ عمر کے آخری حصّے میں مجذوب ہوگئے تھے اور دنیا ترک کردی تھی اور اسی حالت میں 9 نومبر 1492ء میں وفات پائی۔ بعض محققین کا اس پر اختلاف ہے۔ بوقتِ وصال وہ ہرات میں مقیم تھے۔ ہرات ہی میں تختِ مزار میں حضرت مولانا سعد الدین پیر بزرگوار کی قبر کے سامنے مولانا جامی کا مدفن ہے۔

مولانا عبدالرحمٰن جامی سے متعلق تذکروں میں آیا ہے کہ ’’مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک جہاں دیدہ بزرگ تھے۔ اسلامی ممالک کی مشرقی حدود سے لے کر مغربی حدود تک تمام اہلِ زباں، اُن کی بے حد قدر کرتے تھے۔ جس مجلس میں بھی قدم رکھتے، سب اُن کی زبان دانی، شاعرانہ قدرت، عصری علوم میں ان کی دست گاہ اور روحانی اثرات کا اعتراف کرتے تھے۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود لوگوں کی ان سے عقیدت آج بھی برقرار ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں