بیجنگ (11 مئی 2026): ایران نے چین اور روس کی ضمانت کے ساتھ ساتھ ممکنہ امریکا معاہدہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے نئی شرائط رکھی ہیں، چین میں ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی کسی بھی ڈیل میں بڑی عالمی طاقتوں کی ضمانت شامل ہونی چاہیے، جب کہ معاہدے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جانا چاہیے۔
ایرانی سفیر کے مطابق چین اور روس نہ صرف بااثر عالمی طاقتیں ہیں بلکہ خطے میں اپنے کردار کے باعث کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ضامن بھی بن سکتے ہیں۔
Iran’s ambassador to China, Abdolreza Rahmani Fazli, says any potential deal with US must include guarantees from major powers and be raised at UNSC, adding that Beijing could serve as a guarantor pic.twitter.com/9O9KYEfhxv
— TRT World Now (@TRTWorldNow) May 10, 2026
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور فریقین کی جانب سے ثالث ملک پاکستان کے ذریعے تجاویز بھیجی جا رہی ہیں۔
ایران نے امریکی تازہ ترین تجاویز کے جواب میں جنگی معاوضے کا مطالبہ کر دیا
ایرانی سفیر برائے چین عبدالرضا رحمانی فضلی نے اتوار کو ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا ’’چین اور روس دو بڑی اور بااثر طاقتیں ہیں، اور خلیج فارس کے خطے میں ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات اور کردار کو دیکھتے ہوئے، بیجنگ کو کسی بھی معاہدے کے ضامن کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘
هر گونه توافق احتمالی حتما باید باضمانت قدرتهای بزرگ همراه باشد و در شورای امنیت سازمان ملل نیز مطرح شود.
چین و روسیه دوقدرت بزرگ و تاثیرگذار هستند و باتوجه به جایگاهی که چین برای ایران و دیگر کشورهای منطقه خلیجفارس دارد، پکن میتواند به عنوان ضامن هر گونه توافقی مطرح باشد.— عبدالرضا رحمانی فضلی (@rahmanifazli) May 10, 2026
انھوں نے لکھا ’’کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ساتھ بڑی عالمی طاقتوں کی ضمانتیں شامل ہونی چاہیئں اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔‘‘
قبل ازیں، جمعہ کو چین میں ایران کے سفیر عبدالرّضا رحمانی فضلی نے کہا تھا کہ جنگ کے بعد کے دور میں تہران اور بیجنگ کے تعلقات مزید وسیع اور گہرے ہوں گے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق رحمانی فضلی نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور چین کے درمیان علاقائی سلامتی، امن اور عالمی ترقی سے متعلق امور پر بہت حد تک یکساں مؤقف پایا جاتا ہے۔
ان کا یہ بیان ان قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا کہ واشنگٹن، مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے تہران پر دباؤ بڑھانے کے بدلے بیجنگ کو تجارتی رعایتیں یا ٹیرف میں نرمی کی پیشکش کر سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


