بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا،عبدالباسط -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا،عبدالباسط

نئی دہلی : بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے  کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی نہ دینے پر بھارت کی جانب سے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔

بھارتی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا پاک بھارت مذاکرات میں ایک قدم آگے پھر دو قدم پیچھے کی پالیسی نہیں چلےگی، بھارت کے ساتھ تعلقات خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں، پالیسی کے معاملات میں وزیراعظم ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں، بھارت کیساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارت کےساتھ مذاکرات باہمی سطح پر ہونے چاہئیں، تعلقات پراسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کوئی بڑی بات نہیں، دنیا بدل چکی ہے، دونوں ملک مستقل تناؤکی حالت میں نہیں رہ سکتے، فخرہے پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔

عبدالباسط نے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی نہ دینے پر بھارت کی جانب سے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ دوطرفہ قونصلر رسائی معاہدے کے مطابق سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سے متعلق کیسز میں فیصلہ میرٹ پر کیا جائیگا، کلبھوشن یادیو نے کئی سالوں تک پاکستان میں سفر کیا اور اس کے پاس دو بھارتی پاسپورٹ ہیں۔


مزید پڑھیں : کلبھوشن کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں، پھانسی ہو گی، عبد الباسط


انہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ایران سے اغوا کیے جانے کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا  کہ کلبھوشن کو بلوچستان سے پکڑا گیا جسے جاسوسی کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔

پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کی سزائے موت کا فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 کے معاہدے اور قانون کے مطابق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی، ہم قانونی کارروائی کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو اپنی سزا کے خلاف اپیل کرسکتا ہے اور اپیلٹ کورٹ میں بھی جاسکتا ہے، اگر فیصلہ برقرار رہے تو آرمی چیف اور وزیراعظم سے رحم کی اپیل بھی کرسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں