The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ انتخابات میں بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی، عبدالغفور حیدری کا اعتراف

چار سدہ: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا اعتراف کرلیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے رہنما اور اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ امیدوار برائے ڈپٹی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخابات میں بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ انتخابات میں ضمیر فروش سینیٹرز کو منظر عام پر لانا چاہیے‘۔

عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم میں شامل بعض پارٹیوں کی قیادت پر دباؤ ہے، جوجماعتیں صورت حال کا مقابلہ نہیں کرسکتیں تو انہوں نے مولانا کا ساتھ کیوں دیا؟‘۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کس خدشے کے پیشِ نظر اسمبلیوں سے استعفے نہیں‌ دے رہی؟

 عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ’جے یو آئی نے اکیلے درجنوں ملین مارچ کیے اور ہم مستقبل میں بھی کرسکتے ہیں مگر جمہوریت کی بحالی کے لیے سب کا ایک ساتھ چلنا ضروری ہے‘۔ جے یو آئی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’میری ذاتی رائے ہے کہ پی پی پی مستقبل میں پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہو گی، زرداری کا نواز شریف کو ملک واپس بلانے کا مطالبہ دراصل بہانہ ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر مسلم لیگ ن کی قیادت ملک میں موجود نہ ہوتی تو زرداری کا نوازشریف کی وطن واپسی کا مطالبہ درست تھا، آج ملک میں کوئی طبقہ ایسا نہیں جو حکومت کے خلاف سراپا احتجاج نہ ہو‘۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں تمام جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی جبکہ نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی تھی۔

اجلاس میں شریک گیارہ میں سے 9 جماعتوں نے لانگ مارچ سے قبل اسمبلیوں سے استعفے دینے کے فیصلے پر اتفاق کیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے انکار کیا اور سوچنے کے لیے وقت بھی مانگا۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے تاثر کو مسترد کر دیا

سابق صدر آصف علی زرداری نے اسمبلیوں سے استعفوں کو نوازشریف کی وطن واپسی سے مشروط کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پی پی جمہوریت کی بحالی کے معاملے پر ساتھ دیتی رہے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں