بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

مولانا عبدالحامد بدایونی: مجاہدِ آزادی کی سیاسی اور دینی خدمات کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

مولانا عبدالحامد بدایونی نصف صدی سے زیادہ عرصے تک برصغیر کی ان تمام قومی و ملّی تحریکوں سے وابستہ رہے جن کی بدولت مسلمانوں میں سیاسی بیداری اور منزل کا حصول ممکن ہوسکا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی نے تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریکِ تحفظِ ختم نبوت، آزادی فلسطین و کشمیر اور اتحاد عالمِ اسلام کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں اور تاریخی و مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

20 جولائی 1970ء کو مولانا عبدالحامد بدایونی وفات پاگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ انھوں نے انتہائی متحرک اور فعال زندگی بسر کی۔ مولانا بدایوانی 1898ء میں بدایوں کے ایک مقتدر علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا عبدالقیوم بدایونی اپنے وقت کے جید عالم اور معروف طبیب تھے۔ مولانا عبدالحامد بدایونی کے والد دہلی سے پٹنہ جاتے ہوئے ریل کے حادثے میں وفات پاگئے تھے۔ ان کے بعد اپنے دونوں بیٹوں کی تربیت اور تعلیم کا بار والدہ نے اٹھایا۔ اُن کا بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کا زمانہ ہندوستان کے سیاسی نشیب و فراز اور تحریکوں کا شور سنتے ہوئے گزرا۔ دینی رجحان رکھنے والے مولانا عبدالحامد بدایونی کو سیاست سے بھی وقت کے ساتھ ساتھ گہری دِل چسپی پید ہوگئی۔ آزادی کے فیصلہ کن موڑ پر وہ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پھر اُسی کے ہو رہے۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ہر جماعت میں رہ کر اس کے لیے پورے خلوص اور بے غرضی سے کام کیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی نے 1914ء میں تحریک خلافت سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور ملکی سیاست میں باقاعدہ عملی حصہ لینا شروع کر دیا۔ انھوں نے بعد میں مسلم لیگ اور منزل کے حصول کے راستے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار ہی نہیں کیا بلکہ ہر موقع پر ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ 1940ء میں اقبال پارک لاہور کے اجلاس میں قرارداد پاکستان کے حق میں قائداعظمؒ کی زیر صدارت تاریخی تقریر کی۔ قیام پاکستان کی تحریک کو تیز تر کرنے کے لیے جب 1946ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس (بنارس) منعقد ہوئی تو اکابر علمائے اہل سنت کی جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، علامہ بدایونی اس کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

1945ء میں لیاقت علی خان نے (جو اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری تھے) مولانا بدایونی کو حیدرآباد دکن بھیجا تاکہ نظام دکن میر عثمان علی خان اور قائداعظمؒ کی ملاقات کے لیے راہ ہموار کی کریں۔ نظام دکن مولانا بدایونی کی علمیت اور خطابت کے بڑے مداح تھے۔ 30 اگست 1941ء کو لدھیانہ میں بھی ’’پاکستان‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کی صدارت مولانا بدایونی نے کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہاں‌ آکر مولانا نے دینی محاذ پر مسلسل کام جاری رکھا اور بہت سے اداروں کی بنیاد رکھی۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی دعوت پر مولانا بدایونی آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ وہ ملی استحکام اور اتحاد عالم اسلامی جیسے عظیم مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی آخری سانس تک مصروف عمل رہے۔

اہم ترین

مزید خبریں