آغا حشر سے میری پہلی ملاقات 1916ء میں ہوئی جب وہ لاہور میں مقیم تھے اور ڈراما کی دنیا میں کساد بازاری کے باعث بے روزگار سے ہو رہے تھے، اہلیہ کی علالت اور اس کے بعد وفات نے بھی ان کو بہت افسردہ و دل مردہ کر رکھا تھا۔
انہوں نے اپنے ڈراموں سے ہزارہا روپیہ کمایا لیکن طبیعت سخی اور لکھ لٹ پائی تھی۔ اپنے متعلقین کی اعانت دریا دلی سے کرتے تھے۔ دوستوں کو کھلا پلا کر اور عیش کرا کر خوش ہوتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اکثر ہاتھ تنگ ہو جاتا تھا۔ اس زمانے میں بھی یہی کیفیت تھی۔ حکیم فقیر محمد چشتی نظامی ان کے جانی و جگری دوست تھے۔ انہی کے ہاں مجھے نیاز حاصل ہوا۔ چند روز حکیم احمد شجاع کے گھر مقیم رہنے کے بعد آغا صاحب نے بازار جج محمد لطیف (متصل ٹبی) میں ایک بڑا مکان کرائے پر لے لیا جس میں آٹھ دس بڑے بڑے کمرے تھے لیکن وہ سب خالی خولی بھائیں بھائیں کر رہے تھے۔ صرف ایک باورچی خانہ آباد تھا۔ جس میں آغا صاحب کا کھانا پکتا تھا اور وہ خود ایک چھوٹے سے گلیارے میں زندگی بسر کرتے تھے۔ فرش پر ایک دری بچھی تھی جس پر ایک صندوقچی تھی۔ کچھ اخبار اور چند کتابیں پڑی رہتی تھیں اور ایک کونے میں تکیہ لگائے رنگین تہمد باندھے اور کشمیری دُھسہ اوڑھے آغا حشر متمکن رہا کرتے تھے۔
میں اس زمانے میں پھول اور تہذیبِ نسواں کا ایڈیٹر تھا۔ پانچ بجے اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر سیدھا آغا صاحب کے ہاں چلا جاتا اور تین چار گھنٹے خوب پُرلطف صحبت رہتی۔ حکیم نیر محمد اکثر تشریف لے آتے اور مولانا تاجور بھی کبھی کبھی آغا صاحب سے ملنے آجاتے۔ وہیں ایک دن حکیم احمد شجاع صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔
(اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور معروف صحافی عبدالمجید سالک کی کتاب یارانِ کہن سے اقتباس)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


