The news is by your side.

Advertisement

جب محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر چین گئے!

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی نے کئی سال تعلیم کی غرض سے بیرونِ ملک گزارے اور بعد کے برسوں میں ایک سائنس دان اور قومی نمائندے کی حیثیت سے بھی کئی ممالک کا دورہ کیا۔

اپنے غیرملکی دوروں میں انھوں نے وہاں کے حکومتی امور اور ریاستی نظام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ چوں کہ وہ پاکستان کو قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ایک مضبوط معیشت کے طور پر ابھرتا ہوا دیکھنے کے خواہش مند تھے اور اسے عوام کی ترقی اور خوش حالی کا اہم ذریعہ قرار دیتے تھے، اس لیے انھیں جب بھی موقع ملا انھوں نے مختلف ممالک اور اقوام کی ترقّی اور خوش حالی کا راز جاننے کی کوشش کی اور اس حوالے سے غور وفکر کرتے رہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پچھلے سال اپنے ایک کالم میں چین کے اپنے دورے سے متعلق چند نہایت اہم اور توجّہ طلب باتیں رقم کی تھیں۔ اس کالم سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔

وہ لکھتے ہیں: 35 سال سے زیادہ وقت گزرا کہ میں چین گیا تھا۔ میں وہاں کی انڈسٹری دیکھنے گیا تھا کہ شاید ہمارے کچھ کام آسکے۔ اس وقت وہ مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ خیال و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند سالوں میں چین دنیا کی دوسری معاشی قوّت بن جائے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ان کی مہمان نوازی۔ ان کی اپنے ملک سے محبت، جفاکشی، اور غیرت و وقار قابلِ دید تھا۔

اُس وقت ان کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ اتنی بڑی آبادی کو کھانا فراہم کرنا تھا۔ اس کا حل انھوں نے بہت ہی اعلیٰ منصوبہ بندی سےنکالا۔ انھوں نے نچلی سطح پر پورے ملک میں کمیون (Commune) سسٹم جاری کیا۔ کمیون ایک چھوٹی مکمل بستی کہلاتی ہے۔ ایک کمیون کئی سو ایکڑ پر پھیلا ہوتا تھا۔ اس میں پولٹری فارم، بطخ فارم، مچھلیوں کی افزائش کا فارم وغیرہ، سبزیوں کے کھیت، گندم و مکئی کے کھیت، غرض ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں وہاں پیدا کی جارہی تھیں۔ وہیں لوگوں کے رہنے کے لیے فلیٹ تھے۔ بجلی، پانی، گیس مفت تھا۔

سب سے اہم وہاں Barefoot doctors کی بھی بڑی جماعت تھی۔ یہ ہمارے اچھے تجربہ کار کمپاؤنڈر کی طرح ہوتے تھے، عام بیماریوں کے علاج کے ماہر تھے۔ اگر کوئی زیادہ اہم آپریشن وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو اسپتال بھیج دیتے تھے۔ یہ ڈاکٹر کہلاتے تھے اور بے حد کارآمد اور ہر دلعزیز تھے۔ ہمیشہ مسکرا کر مریضو ں کی خدمت کرتے تھے۔ یہ تمام لوگ اپنے کاموں میں ماہر تھے اور انھوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔

یہی بات میں نے یورپ میں دیکھی تھی کہ ہر پیشہ ور بنیادی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا حامل ہوتا تھا۔ میں چین میں جہاں جہاں گیا یہ کام ہوتے دیکھا۔ کپڑے، جوتے چپراسی سے وزیر اعظم تک ایک ہی طرح کے ہوتے تھے۔ افواج میں بھی یہی روایت تھی۔

نیتجہ دیکھیے ایک نسل نے ہی غربت سے امارت کی منزل طے کرلی۔ ہم ان کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں تھے مگر 70 برس بعد بھی ہم اتنی ترقی نہیں کر پائے جتنی چین نے کی ہے۔

پوری مغربی دنیا اب تک حیران ہے کہ میرے رفقائے کار اور میں نے اس ناممکن کو ممکن بنانے کا معجزہ کیسے کر دیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہایت قابل، محبِّ وطن لوگ تھے اور حکم راں بھی نہایت محبّ وطن اور قابل تھے۔ اقربا پروری اور جہالت کا دور دورہ نہیں تھا۔ ہم سب پاکستانی تھے اور ہم نے کبھی کسی غیر ملکی سے کوئی مدد حاصل نہیں کی تھی۔ہمارے ادارے میں کسی غیر ملکی نے قدم تک نہیں رکھا تھا۔

دیکھیے میں برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں وہ تمام چیزیں خود بنانا چاہییں جو ہم درآمد کررہے ہیں۔ چین نے یہی کیا اور آج دیکھیں وہ کہاں پہنچ گیا ہے۔ ان سے پہلے جاپان نے بھی یہی پالیسی اختیار کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں