پاکستان کے ضلع بہاولپور کے صحرائی علاقہ سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان بھی مشہور زمانہ برطانوی ایڈوانچرر بیئر گرلز سے کم نہیں ہیں۔
اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرنے والے عبدالرحمان نے اپنے اب تک کے سفر کے بارے میں گفتگو کی اور بتایا کہ کس طرح وہ خطرناک رینگنے والے جانوروں کو قابو کرتے ہیں، انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بہت جلد پاکستانی ناظرین پاک جیوگرافک بھی ملاحظہ کرسکیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے رینگنے والے جانوروں پر کام کرنا شروع کیا تو 15 سے 20 دن تک گھر والوں نے میرے برتن الگ کردیے اور رشتے داروں نے باتیں سنانا شروع کردیں کہ یہ خاندان میں سب سے الگ پیدا ہوگیا ہے۔
عبدالرحمان نے بتایا کہ آپ نے بچپن میں نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری چینل دیکھا ہوگا، اب آپ کو بہت جلد پاک جیوگرافک دیکھنے کو ملے گا۔
انھوں نے کہا کہ پاک جیوگرافک میں آپ کو پاکستان کی ہر طرح کی وائلڈ لائف دیکھنے کو ملے گی، ہر طرح کے پودے اور درخت کی معلومات مقامی زبان میں ملے گی۔
زبانوں کے بارے میں بتاتے ہوئے عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ان میں سرائیکی، پنجابی، بلوچی، پشتو، سندھی اور اردو زبان میں دیکھنے والوں کو تمام معلومات مہیا کی جائے گی۔
ان ھوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں گے جس میں آپ کے پاس کوئی بھی ہنر ہو آپ وہاں اسے ظاہر کرسکتے ہیں۔
عبدالرحمان نے کہا کہ ہم ڈاکٹرز کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ سانپ یا کوئی اور جانور کاٹ لے تو کس طرح سے فرسٹ ایڈ مہیا کرنی ہے اور خود کو یا مریض کو کس طرح ہاسپٹلائز کروانا ہے۔
بعض اوقات ریسرچ کے دوران یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی زہریلا سانپ ہمارے ٹیم ممبر کو کاٹ لیتا ہے تو جنتا جلدی ہوسکتا ہے ہم مناسب طریقے سے طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور ہمارا مریض اگلے دن صحیح سلامت ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


