لاہور(15 مارچ 2026): پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف خان نے عاقب جاوید کی پی سی بی میں طویل موجودگی اور کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان کے سابق ٹیسٹ فاسٹ باؤلر عبدالرؤف خان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ 2004-05 سے یہ بھائی صاحب اکیڈمی میں موجود ہیں، کبھی باؤلنگ کوچ، کبھی ہیڈ کوچ، کبھی سلیکٹر تو کبھی ڈائریکٹر بن جاتے ہیں لیکن رزلٹ ہمیشہ صفر رہا۔
انہوں نے عاقب جاوید کا نام لیے بغیر ان کے حالیہ عہدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بھائی صاحب” کبھی باؤلنگ کوچ، کبھی ہیڈ کوچ، کبھی سلیکٹر اور کبھی ڈائریکٹر بن جاتے ہیں، لیکن کارکردگی ہمیشہ صفر رہی ہے۔
عبدالرؤف خان نے کہا کہ پرفارمنس سب کے سامنے ہے، پہلے 2008 میں جیف لاسن کی چھٹی کروا کر خود کوچ لگے۔ پھر سری لنکا، آسڑیلیا میں بدترین شکستوں پر فارغ ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیری کرسٹن کی چھٹی کروائی اور خود کوچ بن گئے، شکستوں کا سلسلہ جاری رہا، پھر سلیکٹر بن گئے، پھر جیسن گلیسپی کی چھٹی کروائی، پھر ساتھ ڈائریکٹر بھی بن گئے اور سلیکٹر بھی۔
سابق کرکٹر نے حالیہ ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی اور نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ واش ان کی سلیکشن کا نتیجہ ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والی تاریخی شکست بھی انہی کے دور میں ہوئی۔
عبدالرؤف خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اتنی ناکامیوں کے باوجود یہ مزید وقت مانگ رہے ہیں تاکہ "عظیم کام” کر سکیں، لگتا ہے انہیں ابھی تک نہ سچا پیار ملا ہے اور نہ ہی مطلوبہ پیسہ۔
سب بدلے جاتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں بدلیں گے۔ 2004,5سے یہ بھائ صاحب اکیڈمی میں کوچنگ کر رہے ہیں۔ کبھی باولنگ کوچ، کبھی ہیڈ کوچ، کبھی سلیکٹر کبھی ڈائریکٹر۔
پرفارمنس سب کے سامنے ہے۔ پہلے 2008 میں جیف لاسن کی چھٹی کروا کر خود کوچ لگے۔ پھر سری لنکا، آسڑیلیا میں بدترین شکستوں پر فارغ… https://t.co/WIt9yZyzJV— Abdur Rouf Khan (@AbdurRoufKhan6) March 14, 2026
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


