شاعرِ مشرق علّامہ اقبال کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا گیا ہے جن میں ان کی خوش طبعی اور احباب کے ساتھ مزاح کے علاوہ وہ واقعات اور قصّے بھی بہت پُرلطف ہیں جو اقبال نے موقع کی مناسبت سے احباب اور اپنی مجلس کے شرکاء کو سنائے۔
ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کو علّامہ اقبال کی رفاقت کا اعزاز حاصل رہا۔ وہ چند برس عمر میں اقبال سے چھوٹے تھے۔ انھوں نے علّامہ اقبال کو سیالکوٹ میں دیکھا، سیاسی جلسوں میں سنا اور 1923ء سے اقبال کی رحلت تک ان کے ہم راہ سفر اور حضر بھی کیا۔ چغتائی صاحب نے اسی زمانہ کی یادوں اور اپنے مشاہدات کو کتابی شکل دی جو "اقبال کی صحبت میں” کے نام سے شایع ہوئی۔ اس کتاب میں ایک جگہ چغتائی صاحب نے علّامہ اقبال کی زبانی ایک دل چسپ واقعہ رقم کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت علاّمہ نے فرمایا کہ گول میز کانفرنس سے واپسی پر جب ہم عدن کی بندرگاہ پر پہنچے تو جہاز سے اتر کر کنارے پر آگئے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے غوطہ خور لڑکے سمندر سے سکّے پکڑنے کے کرتب دکھا رہے تھے۔
جہاز کے مسافر چھوٹے چھوٹے سکّے سمندر میں پھینکتے اور یہ لڑکے نہایت پھرتی سے غوطہ لگا کر وہ پیسے دانتوں میں پکڑ کر باہر نکال لاتے اور پھر انھیں اپنے منہ میں رکھ لیتے۔ ہم لوگ یہ تماشا دیکھ رہے تھے که دفعتاً مولوی شفیع داؤدی صاحب کے چیخنے کی آواز آئی۔ وہ ان لڑکوں کو مخاطب کر کے مختلف آیتیں پڑھے جا رہے تھے۔ پہلے تو وہ لڑکے کچھ نہ سمجھے، مگر جب مولوی صاحب نے عین اپنے سامنے سمندر کی طرف بار بار ہاتھ سے اشارہ کیا تو ایک لڑکے نے وہیں غوطہ لگایا اور تھوڑی دیر بعد پانی میں بھیگی ہوئی ایک کتاب نکال لایا اور اسے مولوی صاحب کی طرف اچھال دیا ہوا۔
دراصل یوں تھا کہ جب ہم لوگ لڑکوں کے کرتب دیکھ رہے تھے تو مولوی صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جو عالمِ محویت میں ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر سمندر میں جا پڑی۔ چونکہ مولوی صاحب عربی زبان سے ناواقف تھے، لہٰذا پریشانی اور بدحواسی کے عالم میں، لڑکوں کو مخاطب کرنے کے لیے، انھوں نے عربی کے وہ تمام فقرے اور آیات پڑھ ڈالیں جو انھیں یاد تھیں۔ مثلاً یا شیخ، یا شیخ! ذالك الكتاب لا ريب فيه، لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم، اِن اللّٰه علٰی كلِّ شيءٍ قدير وغیرہ۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ جب ہمیں اصل صورتِ حال کا علم ہوا تو ہم ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


