انصار الشریعہ کا سربراہ بھی افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا abdullah-hashmi
The news is by your side.

Advertisement

انصار الشریعہ کا سربراہ بھی افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا

کراچی : خواجہ اظہار پر حملے اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ کا گرفتار سربراہ عبداللہ ہاشمی افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب حراست میں لیے گئے انصار الشریعہ کے سربراہ عبداللہ ہاشمی نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ہولناک انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک سال قبل انصار الشریعہ نامی جماعت کی داغ بیل ڈالی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی میں خود کیا کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق عبداللہ ہاشمی 6 سے 8 رکنی گروہ کا سرغنہ اور ترجمان بھی تھا جس نے انصار الشریعہ نامی دہشت گرد تنظیم ایک سال پہلے بنائی تھی جن میں سے 4 سے 5 لڑکے عسکری کارروائیاں کیا کرتے تھے جس کے احکامات خود عبداللہ ہاشمی دیا کرتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر کے پاکستان آیا جب کہ 4 سے 5 دہشت گردوں کو تربیت بلوچستان کے کسی نامعلوم مقام پردلوائی۔

کسی بھی کارروائی کا فیصلہ اور منصوبہ بندی عبداللہ کیا کرتا تھا جس کے لیے ریکی بھی خود عبداللہ ہاشمی دیا کرتا تھا اور قتل کرنے کے احکامات دیتا تھا جس کی تعمیل کے لیے سروش، مزمل اور حسان پر مشتمل ٹارگٹ کلنگ گروپ کیا کرتا تھا جب کہ تنظیم کے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ عبداللہ اور سروش خود آپریٹ کیا کرتے تھے۔


  خواجہ اظہار قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم سروش سے متعلق اہم معلومات* 


ذرائع کا کہنا ہے کہ انصار الشریعہ نے اپنے امیر عبداللہ ہاشمی سے ناروا سلوک کے باعث پولیس کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا اور انتقاماً کئی پولیس والوں کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں اگلے مرحلے میں سیکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے جا رہے تھے جس کے لیے رینجرزکی ایک چوکی کی ریکی بھی کر رکھی تھی۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد ان کی مغربی تعلقات اور روشن خیالی تھی جس کے باعث انہیں نشانہ بنانے کے لیے باقاعدہ ریکی کی گئی اور سروش صدیقی، مزمل اور حسان نے مسجد سے باہر انہیں نشانہ بنایا تاہم وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

ذرائع کے مطابق انصار الشریعہ کے تمام دہشت گرد خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو فنڈز کا بندوبست اپنے ہی خاندان کے لوگوں سے کیا کرتے تھے اور اپنے اہل خانہ سے غریبوں کی مدد کے نام پر زکوۃ، قربانی کی کھالیں اور دیگرفنڈز اکٹھا کیا کرتے تھے جس کی مدد سے اپنی کارروائیاں کرتے تھے۔


 خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مرکزی ملزم کے گھر چھاپا*


ذرائع کے مطابق سروش صدیقی نے نارتھ کراچی کے ایک اسکول سے میٹرک کیا اور سرسید یونیورسٹی سے ڈپلومہ کرنے کے بعد جامعہ کراچی کے اپلائیڈ فزکس ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔

سروش صدیقی انصارالشریعہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے علاوہ تنظیم کا تمام اسلحہ رکھنے کا بھی ذمہ دارتھا اور ہتھیار واردات سے پہلے اور بعد میں سروش کے پاس ہی جمع ہوتا تھا، ملزمان سے مزید تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں