بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

سازش کیس: جھوٹی گواہیوں پر فیض صاحب اور ساتھی قیدی ہنسنے لگتے تھے

اشتہار

حیرت انگیز

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پہلی باقاعدہ پابندی جولائی 1954ء میں لگائی گئی تھی۔ اس پر حکومت کا تختہ الٹنے اور بغاوت کی سازش کا الزام لگا اور راولپنڈی سازش کیس میں بڑی گرفتاریاں ہوئیں جن میں‌ سب سے بڑا نام فیض احمد فیض کا تھا۔

کمیونسٹ پارٹی کے راہ نماؤں اور کارکنوں کریک ڈاؤن کی وجہ سے زیرِ زمین چلے گئے۔ بیشتر گرفتار ہوئے۔ پنڈی سازش کیس کے تناظر میں ترقی پسند مصنّفین کو بھی صعوبتیں اٹھانا پڑیں۔ لینن انعام یافتہ انقلابی شاعر فیض احمد فیض کو گرفتار ہوئے اور حیدر آباد سندھ کی جیل کے قیدی بنے۔ اس کے تین ماہ بعد معروف مارکسی دانشور، ادیب اور صحافی عبداللہ ملک بھی گرفتار ہوگئے اور وہیں فیض صاحب کے ساتھ دو سال گزارے۔

عبداللہ ملک نے بعد میں اپنی کتاب "لاؤ تو قتل نامہ میرا” لکھی تو فیض احمد فیض کے فن و نظریے اور جیل میں پیش آنے والے بعض واقعات بھی رقم کیے جو لائقِ مطالعہ ہیں۔ یہ خصوصی ٹریبونل کے سامنے ان کی پیشی کا ایک دل چسپ واقعہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

حیدرآباد سندھ کے جیل خانے میں ہم تقریباً دو سال رہے۔ ایک اسپیشل ٹریبونل جو جیل کے اندر ہی بیٹھتا تھا۔ اس کے سامنے ہم کو روزانہ پیش ہونا پڑا تھا اور ہم وکیلِ سرکار کی بحث اور جرح اور صفائی کے وکیلوں کا جواب، سیکڑوں گواہوں کی گواہیاں یہ سب سنتے رہتے تھے۔ عام طور پر یہ چند گھنٹے نہایت بورنگ ہوتے تھے۔ ملزموں کے کٹہرے میں ہم سب تیرہ ملزم دو صفوں میں بیٹھے تھے۔ دوسری یا آخری صف کے بائیں سرے پر میں اور فیض پاس پاس بیٹے سرگوشیاں کرتے رہتے اور سامنے پڑی ہوئی کاپی پر بھی کارٹون بناتے، کبھی گواہوں کی شہادت پر اپنے نوٹ لیتے۔ ہم تعزیراتِ پاکستان کی بے شمار دفعات میں ماخوذ تھے جن میں سب سے سنگین فوجی بغاوت کے ذریعہ حکومتِ پاکستان کا تختہ الٹنے کی سازش اور فوج میں بغاوت پھیلانے کا الزام تھا جس کی سزا موت تھی۔ ہمیں اس وقت ہنسی آتی تھی جب ہمارے خلاف جھوٹی گواہیاں پیش ہوتی تھیں۔ ان موقعوں پر کبھی کبھی ہم یا ہمارے ساتھی بے ساختہ ہنس دیتے جو عدالت کی توہین کے مترادف سمجھا جاتا۔ اس پر اسپیشل ٹریبونل کے صدر جسٹس عبد الرحمٰن جن کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی، غصے سے بالکل لال پیلے ہو جاتے ( وہ بہت گورے چٹے تھے) اور زور زور سے چلا کر ہم کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتے اور اگر اس پر بھی کسی کو اور زیادہ ہنسی آتی تو وہ دھمکی دیتے تھے۔

اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے والے جج کو ناراض کر لینا اور بھڑکانا کوئی دانش مندی نہیں تھی۔ لیکن ہم بھی آخر مجبور تھے۔ ان دنوں ہم لوگ ہر پندرہ دن پر چھٹی کے دن ایک طرحی مشاعرہ کرتے تھے جس کے لیے شعر کہنا ہر قیدی کے لیے لازمی تھا۔ دراصل یہ فیض کے خلاف ایک ‘سازش’ تھی تاکہ ان کو شعر کہنے پر مجبور کیا جائے۔ ان ہی حالات میں فیض نے وہ غزل لکھی۔

تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں