The news is by your side.

Advertisement

مصوّرِ مشرق، پتنگ بازی اور کلیجی کا رنگ!

“چغتائی صاحب سرورق بنانے کا کوئی معاوضہ قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ یہ کام اس نیّت سے کرتے تھے کہ ان کے فن کی زکوٰۃ نکلتی رہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل برصغیر بھر سے جو فرمائش بھی انہیں ملی، انہوں نے اس کا احترام کیا اور سرورق بنا کر بھجوا دیا۔

جان، انجان کی بات ہی نہیں تھی۔ اس پر میں نے کئی لوگوں کو حیران ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ واقعی چغتائی صاحب ان کی کتاب کا سرورق بنا دیں گے۔ اور وہ بھی بلا معاوضہ! لوگ سمجھتے تھے وہ کم از کم ہزاروں روپے مانگیں گے۔

چغتائی صاحب کی کرم نوازی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ سرورَق بنانے کے لیے زیادہ وقت نہیں لیتے تھے۔ لاہور کے باہر آئے ہوئے لوگوں کو اسی روز یا دوسرے تیسرے دن فارغ فرما دیتے تھے۔ اور لاہور والوں کے ساتھ بھی اکثر و بیش تر یہی سلوک روا رکھتے تھے۔ ہاں ان کی طبیعت ناساز ہو یا کوئی اور گھریلو یا نمایشی مجبوری ہو تو بات دوسری تھی۔ وہ جو وعدہ فرماتے اس سے پہلے ہی کام تیار رکھتے بلکہ سرورق تیار کرتے ہی اپنے بھائی جناب عبدالرحیم چغتائی کے ہاتھ ہمیں بھجوا دیتے۔

چغتائی صاحب پتنگ بازی کے بھی بے حد شوقین تھے۔ ہمیشہ سفید رنگ کی ایک خاص سائز کی پتنگ اڑاتے تھے۔ ہوا کا رُخ ہمارے گھر کی طرف ہوتا تو ان کی پتنگ کو دیکھتے ہی ہم پہچان جاتے کہ چغتائی صاحب شوق پورا کر رہے ہیں۔

کبھی میں ابا جی (نذیر احمد چودھری) کی طرف سے سرورق بنانے کے لیے کہنے جاتا یا ان کے وعدے کے مطابق سرورق لینے کے لیے جاتا تو دروازے پر لگی گھنٹی بجاتا۔ وہ تیسری منزل کی کھڑکی کھول کر نیچے جھانکتے، مجھے دیکھتے اور کھڑکی بند کر کے خود سیڑھیاں اتر کر نیچے تشریف لاتے۔ ایسا وہ اس صورت میں کرتے تھے جب سر ورق کے بارے میں کوئی بات سمجھانی ہوتی تھی۔ بصورتِ دیگر سر ورق ایک چھینکے میں رکھ کر نیچے لٹکا دیتے تھے۔ سبزی بھی وہ یونہی خریدا کرتے تھے۔

چغتائی صاحب تکلفات سے بے نیاز تھے۔ وہ اکثر بنیان اور دھوتی پہنے ہوتے۔ آخر میں انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا، شاید آسانی کی خاطر، کہ سرورق کو کلر اسکیم نہیں لگاتے تھے۔ مجھے کہتے: ”ریاض، بلاک بن جائے تو چار چھ پروف نکال لانا، اسی وقت رنگ لگا دوں گا۔ تُو نے کون سا دور سے آنا ہے۔ سامنے ہی تو پریس ہے۔“ میں کہتا: ”جی بہتر۔“

ان کی ہدایت کے مطابق پروف لے کر جاتا تو دیکھتے ہی دیکھتے رنگ لگا کر میرے سپرد کر دیتے۔ اور مشکل رنگوں کے بارے میں سمجھا بھی دیتے کہ کن رنگوں کے امتزاج سے بنیں گے۔ اور اس میں کیا احتیاط ضروری ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ادا جعفری صاحبہ کے مجموعہ کلام ”میں ساز ڈھونڈتی رہی“ کے پروفوں کو رنگ لگا کر ایک رنگ کے بارے میں سمجھانے لگے کہ کیسے بنے گا۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں سکا ہوں تو فوراً ہنستے ہوئے کہنے لگے: ”گوشت والے کی دکان پر جا کر کلیجی دیکھ لینا۔ میں نے کلیجی کا رنگ لگایا ہے۔ بس ویسا ہی چھاپنا۔ نہیں تو بات نہیں بنے گی۔“

اچھا چھپا ہوا سرورق دیکھ کر بے خوش ہوتے تھے اور دل کھول کر داد دیتے تھے۔ بلاک بننے میں بھی کوئی کسر رہ گئی ہوتی تو وہ فوراً بھانپ جاتے اور اس کی نشان دہی فرما دیتے۔”

(ممتاز مصور عبدالرحمٰن چغتائی کے فن اور شخصیت سے متعلق ریاض احمد کی یادوں سے چند جھلکیاں)

Comments

یہ بھی پڑھیں