The news is by your side.

Advertisement

‘پابندی صرف فنکاروں کے لیے ہی کیوں ہے؟’

ممبئی: بھارتی اداکار ابھے دیول نے بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے فیصلے کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر میں حکومت کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہا۔ اگر پابندی ہی عائد کرنی ہے تو ہر شعبہ پر عائد کی جائے صرف فنکاروں پر نہیں۔

فلم ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ کی پروموشن کے حوالے سے ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ابھے دیول کا کہنا تھا کہ پابندی صرف فنکاروں کے لیے ہی کیوں ہے؟

پاکستانی فنکاروں پر پابندی اسکول کے بچوں کا مذاق ہے، پوجا بھٹ *

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پر پابندی لگانی ہی ہے تو ہر شعبہ پر لگائی جائے، چاہے وہ کاروبار ہو، چاہے برآمدات ہوں یا درآمدات ہوں۔ پابندی سب پر ہونی چاہیئے۔ صرف فنکاروں پر ہی پابندی کیوں ہے۔

ابھے کا کہنا تھا کہ صرف فنکاروں پر پابندی لگائی گئی جبکہ باقی تمام شعبے اس پابندی سے مستشنیٰ ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس اقدام سے صرف شور مچانا چاہتی ہے۔

‘پاکستانی فنکاروں کی حب الوطنی سے بھارتی سبق سیکھیں’ *

ابھے نے اس فیصلے کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ میں اس فیصلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ ہاں اگر حکومت تمام شعبوں میں پاکستان سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر دے تو میں اس فیصلے کا احترام کروں گا۔

اس موقع پر وہاں موجود فلم ساز زویا اختر نے بھی کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے صرف فلم اور اداکاروں کو ہدف بنانے کو بدقسمتی قرار دیا۔

دیا مرزا کا نفرت کو فروغ دینے والی حب الوطنی سے انکار *

کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز کو روکنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’کرن جوہر نے کچھ غلط نہیں کیا۔ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداکاروں کو بھارت آنے کے لیے ویزا خود حکومت نے دیا ہے۔ اگر وہ یہاں کام کر رہے ہیں تو یہ بالکل قانونی ہے۔

اس سے قبل بھارتی ہندو انتہا پسند تواتر سے فلم ساز کرن جوہر کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ وہ ’اے دل ہے مشکل‘ سے پاکستانی اداکار فواد خان کے مناظر کو نکال دیں ورنہ وہ فلم کو ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔

بالآخر کرن جوہر کو اعلان کرنا پڑا کہ وہ آئندہ کسی پاکستانی اداکار کو اپنی فلم میں نہیں لیں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی اداکاروں نے پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس سے قبل سلمان خان سمیت متعدد اداکار اس فیصلے کی مخالفت کر چکے ہیں جس کی پاداش میں انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں