معروف افسانہ نگار اور صحافی عابد سہیل 2016ء میں انتقال کرگئے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کے اس فعال رکن کو بھارت میں ان کے نظریات اور ادبی و صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
عابد سہیل کی خودنوشت ‘جو یاد رہا’ بھی بہت مقبول ہوئی تھی جس سے ہم یہ اقتباس پیش کررہے ہیں۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس زمانہ میں عابد سہیل مالی مشکلات کا شکار تھے، ان کی شناسائی سڑک کے کنارے بھنی ہوئی کلیجی بیچنے والے سے ہوگئی۔ جیب اجازت دیتی تو وہ پیسے دو پیسے کی کلیجی لے کر اپنا پیٹ بھر لیتے۔ کلیجی بیچنے والا مہربان انسان تھا۔ ان کی دوستی ہوگئی اور وہ اسے اپنی مشکلات اور مسائل بھی بتانے لگے۔ ایک روز عابد سہیل نے اس کے سامنے رات کو فارغ وقت میں رکشہ چلانے کی خواہش کا اظہار کیا اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن انھیں شرم بھی محسوس ہورہی تھی کہ اگر ان کے رشتے دار یا دوسرے شناسا دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔ خودنوشت میں یہ قصّہ مصنف نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
رکشہ چلانے کا کام با قاعدہ نہیں کیا۔ مشکل سے پانچ چھے بار چلایا ہوگا۔ لیکن اس دوران دو قابلِ ذکر واقعات ہوئے۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ حضرت گنج نہ جاؤں گا۔ وہاں دیر رات گئے بھی کسی جان پہچان والے سے ملاقات ہو جانے کا ڈر تھا، لیکن ایک دن قیصر باغ میں سواری اتاری ہی تھی کہ ایک صاحب رکشہ پر بیٹھ گئے۔ انھیں الہ آباد بینک کے چوراہے تک جانا تھا، چرہی کے سامنے جہاں سڑک کافی ہاؤس کی طرف مڑتی ہے۔ وہ پیسے دے ہی رہے تھے کہ جانے کہاں سے رضیہ سجاد ظہیر آگئیں۔ میں دوسری طرف دیکھنے لگا۔ انھوں نے وزیر حسن روڈ چلنے کے لیے کہا لیکن میں نے جواب نہ دیا کہ وہ آواز ضرور پہچان لیں گی۔ انھیں پہنچا کر میں نے سر جھکائے جھکائے پیسے لیے۔ میرا خیال تھا کہ انھوں نے مجھے پہچانا نہیں کیوں کہ دونوں کی آنکھیں ایک بار بھی ملنے نہ پائی تھیں۔ اس کے بعد بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں مگر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس سے ذرا بھی خیال ہو کہ انھوں نے مجھے پہچان لیا تھا۔
پھر کئی مہینے بعد انھوں نے انجمن کے جلسے میں افسانہ سنایا۔ یہ جلسہ احتشام صاحب کے یہاں ہوا تھا۔ افسانہ سناتے ہوئے وہ اپنے مخصوص انداز میں کنکھیوں سے مجھے دیکھتیں اور کبھی کبھی مسکرا دیتیں۔ ان کی مسکراہٹ میں شرارت اور محبت کی بڑی دلکش آمیزش تھی۔ یہ کہانی اس واقعے سے متعلق تھی۔ اگرچہ انھوں نے بہت کچھ تبدیل کر دیا تھا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے کہانی کا نام "ہاتھ” تھا۔
دوسرا تجربہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا۔
سفید بارہ دری سے ذرا آگے بلکہ میوزک کالج کے سامنے ایک لڑکے اور ایک عورت نے سٹی اسٹیشن کے پاس جانے کے لیے رکشہ کیا۔ ابھی جاڑے نہیں شروع ہوئے تھے۔ اگرچہ ان کی آمد آمد ضرور تھی، پھر بھی لڑکے نے ہڈ چڑھانے کے لیے کہا۔ مجھے تھوڑی سی حیرت ہوئی لیکن پھر سمجھ گیا۔ میری بھی تو وہی عمر رہی ہوگی۔ سواریوں کی ہدایت کے مطابق رکشہ نواب سعادت علی خاں کے مقبرے سے مڑ کر اس سڑک سے ہوتا ہوا جس پر اب ٹیلی فون کے بل جمع کرنے کا دفتر ہے گزر رہا تھا کہ مجھے کچھ گڑبڑ شبہ ہوا۔ وہ جو کہتے ہیں ڈرائیوروں کی دو آنکھیں سر کے پیچھے ہوتی ہیں، وہ دو چار دن ہی رکشہ چلا کر میرے سر پر اگ آئی تھیں لیکن اسی وقت یہ بھی اندازہ ہوا کہ ڈرائیوروں کے کان بھی آنکھیں بن جاتے ہیں اور تجربہ انھیں کانوں میں پڑنے والی آواز کو نظر آنے والے خاکوں میں تبدیل کر دینے کی صلاحیت بخش دیتا ہے۔ سڑک سنسان تھی، شام کے آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کا وقت رہا ہوگا کہ مجھے ایسا لگا جیسے کوئی پیچھا کر رہا ہو۔ میں نے ذرا سا سر موڑ کے کنکھیوں سے دیکھا تو سائیکل پر سپاہی تھا، جو دوسری طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ دو ہیں۔ میں سواریوں کو آگاہ کرنا چاہتا تھا کہ سپاہی پیچھا کر رہے ہیں لیکن وہ رکشے سے بس ذرا سا پیچھے تھے، میری بات سن ضرور لیتے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ دونوں پر مصیبت آنے والی ہے لیکن کیا کرتا۔ آخر ناری شکشا نکیتن کے سامنے دونوں سپاہیوں نے سائکلیں بڑھا کر رکشہ روک لیا اور سواریوں کی ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی۔ لڑکے نے ایک پولیس افسر کا نام لیا اور کہا میں ان کا رشتہ دار ہوں تو ایک سپاہی نے پوچھا، ان کی پوسٹنگ کہاں ہے؟ لڑکا جواب نہ دے سکا تو دوسرے نے کہا قیصر باغ تھانے چلو۔ عورت کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ لڑکے نے جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن یا تو وہاں کچھ تھا نہیں یا وہ روپے جیب سے نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ عورت نے فوراً پرس کھولا اور پانچ روپے کا نوٹ سپاہی کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے نوٹ لیتے ہوئے دوسرے سپاہی کی طرف اشارہ کیا اور کہا "اور اُنھیں….” تو عورت نے جھنجھلاتے ہوئے دوبارہ پرس میں ہاتھ ڈالا اور سپاہی سے پانچ روپے کا نوٹ واپس لے کر دس کا نوٹ اس کے حوالے کر دیا۔ دونوں سپاہی ہنستے ہوئے چلے گئے۔
تقریباً اسی وقت بجلی کے کھمبے کے بلب کی روشنی عورت کے چہرے پر پڑی تو مجھے یکایک احساس ہوا کہ میں اسے اچھی طرح جانتا تھا اور وہ مجھے بھی۔ اس دن کے بعد سے اب تک اس کو درجنوں بار تو دیکھا ہوگا، ملاقات کی بھی نوبت آئی، لیکن نہ اس نے مجھے کبھی بطور رکشہ ڈرائیور پہچانا، نہ میں نے کبھی اسے اس شام کی سواری کے طور پر۔
کبھی کبھی جانی پہچانی صورتیں کیسی انجانی بن جاتی ہیں … یا حالات انھیں ایسی بنا دیتے
ہیں۔


