The news is by your side.

اسقاط حمل: فیس بک اور انسٹاگرام کا ایکشن

امریکا میں اسقاط حمل پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام نے اپنے پلیٹ فارمز سے اسقاط حمل کی پوسٹیں ہٹانا شروع کر دیں۔

چند روز قبل امریکی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے اسقاط حمل پر پابندی لگا دی تھی۔

اس فیصلے کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام نے اسقاط حمل کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی پیشکش اور طبی سہولیات سے متعلق پوسٹیں ڈیلیٹ کرنا شروع کر دی ہیں۔

ایسی پوسٹیں جن میں اسقاط حمل کے لیے ادویات کی پیشکش کی جارہی ہیں انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹایا جا رہا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل پر پابندی لگا دی

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسقاط حمل میں سہولیات فراہم کرنے اور ادویات تک رسائی کی پیشکش کی جارہی تھیں۔

فیس بک اور انسٹاگرام پر تجرباتی بنیادوں پر اسقاط حمل کو فروغ دینے والی پوسٹوں کو ایک منٹ میں ہی ڈیلیٹ کیے جانے کے تجربات سامنے آئے ہیں۔

میڈیا نمائندوں اور کمپنیوں نے یہ جانچنے کے لیے کہ کیا فیس بک اور انسٹاگرام ایسی پوسٹیں ڈیلیٹ کر رہا ہے جس میں ادویات کی پیشکش کی جارہی ہے؟

میڈیا نمائندوں کا کہنا ہے کہ تجرباتی پوسٹیں فوری طور پر ہٹا دی گئیں اور اس کا دورانیہ ایک سے دو منٹ تھا۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے Roe v Wade کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت 5 دہائیوں سے خواتین کو قانونی حق حاصل تھا کہ وہ اسقاط حمل کروا سکتی ہیں۔ 1973میں اسقاط حمل کو خواتین کا قانونی حق قرار دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں