site
stats
پاکستان

ابرار قتل کیس کا معمہ حل، سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے گرفتاری دے دی

کراچی: ابرار قتل کیس کا معمہ حل ہوگیا، فائرنگ کرنے والے کائونٹر ٹیرر ازم (سی ٹی ڈی) کے تین اہلکاروں نے گرفتاری دے دی جبکہ چوتھے اہلکار کو گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائٹی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والا سادہ لباس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معمہ حل ہوگیا۔

فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کا تعلق سی ٹی ڈی سے ہے ،ایس ایس پی راجہ عمر خطاب نے تصدیق کردی، اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقامی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کے مطابق واقعے میں سی ٹی ڈی کے ملوث ہونے کی خبر پر محکمہ میں انکوائری کی جس میں تین اہلکاروں نے خود کو پیش کیا جبکہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کی شناخت کے بعد اسکے گھر سے حراست میں لے لیا گیا۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق سی ٹی ڈی موبائل ڈیوٹی ختم کر کے لکی اسٹار سے گذر رہی تھی کہ ایک کار میں سے ایک شخص باہر لٹکا ہواتھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا اور کار انتہائی تیز رفتار سے بھاگ رہی تھی اور اس دوران کار والے نے پولیس سے بچنے کیلے کئی موٹرسائکل سواروں کو بھی ٹکر ماری تھی جس پر موبائل نے ان کا تعاقب کیا تاہم کار نہیں روکی گئی۔

بعد ازاں  سندھی مسلم سوسائٹی کے مقام پر اہلکاروں نے کار کو فائرنگ کر کے روکا ۔اسی دوران علاقہ پولیس آگئی جس کے بعد اہلکاروں نے علاقے پولیس کواپنا تعارف کرایا اور چلے گئے۔

واقعے میں ملوث چاروں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جنہیں مقامی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ دوسری جانب مقتول ابرارکے والد کی مدعیت میں فیروز آباد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کی جانب سے ڈی آئی جی ایسٹ کامران فضل کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے جو واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب دلنواز نامی شخص نے ابرار نامی شخص سے موبائل فون کی فروخت کے لئے ملاقات کی تاہم رقم کی ادائیگی کئے بغیر بھاگنے کی کوشش کی اسی دوران ابرار گاڑی میں جا گھسا۔

دونوں کے درمیان گاڑی میں ہی چھینا جھپٹی ہوئی۔ گاڑی جب سندھ مسلم سوسائٹی پہنچی تو پولیس موبائل وین میں سوار سادہ لباس افراد نے چیخ و پکار سن کر گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ابرار موقع پر ہی دم توڑ گیا اور فائرنگ کرنے والے افراد فرار ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سادہ لباس افراد سے ان کی شناخت پوچھی تو انہوں نے خود کو سی ٹی ڈی کا اہلکار بتایا، مبینہ اہلکاروں کے موقع سے جانے کے کافی دیر بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

یہ پڑھیں:کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں معصوم نوجوان ہلاک

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top