The news is by your side.

Advertisement

زمانہ قدیم کی ڈاک اور کبوتروں کا شجرۂ نسب

پچھلے زمانے میں ان کبوتروں کی ڈاک سے شاہانِ وقت اور امرائے زمانہ نے اس قدر فوائد حاصل کیے ہیں کہ غالباً آج کل تمام دنیا کے کبوتروں کی تجارت میں اس قدر زمانہ منتفع نہ ہوتا ہوگا۔

تاریخ کی کتابوں میں یہ مثل اور واقعات کے تاریخی حیثیت سے لکھا جاتا ہے اور علمِ ادب کی کتابیں اس حیوان کی صفات سے بھری پڑی ہیں۔

اس وقت ہمارے سامنے علامہ جلال الدین سیوطی کی عجیب و غریب کتاب حسن المحاضرہ اخبار مصر و القاہرہ اور علامہ ابن فضل اللہ دمشقی کی التعریف بالمصطلح الشریف رکھی ہوئی ہیں اور ہم ان کی ورق گردانی سے اپنی انتشارِ طبیعت کی گردش کو دور کر رہے ہیں۔ ان دونوں کتابوں میں کبوتروں کی ڈاک کی پوری کیفیت اور احوال نہایت ہی دل چسپ طریقے سے تحریر کیے گئے ہیں۔

ہم قارئین کی دل چسپی کے لیے ان دونوں مستند کتابوں اور نیز بعض اور ادب کی معتبر کتابوں سے (مثل مصنفات قاضی محی الدین اور کاتب عماد وغیرہ وغیرہ کے اور بعض مغربی تصنیفات سے) کچھ ان کا حال ترجمہ کر کے ترتیب دیتے ہیں جس سے ہماری نئی روشنی کے پرستاروں کو معلوم ہوگا کہ ’’ایجادات‘‘ کا سلسلہ کچھ اس نئے زمانے ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ پچھلے زمانوں میں بھی حیرت انگیز ایجادات کا سلسلہ دیکھنے والوں کو متعجب بنا چکا ہے۔

ہم کو خوف ہے کہ کوئی صاحب ہمارے اس بیان کو شاعرانہ خیال پر محمول نہ فرمائیں کیوں کہ بلبل کے نغموں اور کبوتر کی نامہ بری کو حضرات شعرا نے بالخصوص بہت چھکایا ہے اور ان کی دیوانِ اوّل سے آخر تک اس کے بیانات سے بھرے پڑے ہیں۔ مگر نہیں! اس وجہ سے کسی ایسے تاریخی واقعے کی صحّت میں جس سے تمام مستند تاریخیں مالا مال ہوں کچھ فرق نہیں آ سکتا۔

اس کا موجد کون ہے؟
اس امر کا پتہ لگانا دراصل نہایت مشکل ہے کہ اس کا موجد کون ہے؟ مغربی اور مشرقی تاریخیں اس بارے میں بالکل خاموش ہیں۔ ہاں اسلامی تاریخ اس امر کا ضرور پتہ دیتی ہے کہ اسلامی سلسلۂ سلطنت میں سب سے پہلے نور الدین محمود زنگی کے وقت میں اس کی ابتدا ہوئی اور گویا اسلام میں اس کی داغ بیل ڈالنے والا نور الدین ٹھہرا۔

بعض تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں شام اور مصر پر یورپ کے متواتر حملے ہو رہے تھے اور بے خبری کے سبب سے موقع پر کسی قسم کی شاہی فوج نہیں پہنچ سکتی تھی، اس وقت نور الدین محمود زنگی نے کبوتروں کی ڈاک اپنے تمام قلمرو میں قائم کی۔ اور ان کے ذریعے سے خبر رسانی کا انتظام کیا۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یورپ کی دست اندازیوں سے پہلے سلطان کو خبر ہو جایا کرتی تھی اور وہ موقع پر فوج بھیج کر اس کا کافی انسداد کر دیتا تھا۔ اس طریقے کے برتنے سے تھوڑے ہی دنوں میں سلطان کی سلطنت امن و امان میں آ گئی اور ہر طرف اس کے انتظام کا ڈنکے بجنے لگے۔

لیکن اب بحث طلب یہ امر ہے کہ سلطان نے کس سن میں یہ انتظام کیا؟ جس سے یہ نتیجہ نکل سکے کہ اسلام میں کس سن سے اس ڈاک کی ابتدا ہوئی۔ مؤرخین کو اس میں اختلاف ہے مگر ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مستند قول یہ ہے کہ ’’یہ انتظام 567ھ میں ہوا۔‘‘ پس مسلم دنیا میں اس طریقہ کو رائج کرنے والا جسے اضافی حیثیت سے موجد کہنا چاہیے، ’نور الدین محمود زنگی‘ ہے۔

نورالدین کے بعد مشہور اسلامی فاتح صلاح الدین کے زمانے میں بھی اس سے کام لیا گیا۔

بغداد میں بھی خلیفہ الناصر الدین اللہ نے ادھر خاص توجہ کی تھی اور ایک محکمہ کبوتروں کی غور و پرداخت کے لیے قائم کیا تھا۔ مصر میں جس وقت اس کی قسمت کی باگ فاطمی خلفا کے ہاتھ میں تھی، کبوتروں کی ڈاک کا بہت رواج تھا۔ ان لوگوں نے بہ نسبت اور بادشاہوں کے اِدھر زیادہ توجہ کی تھی۔

کبوتروں کی تعلیم اور ان کی غور و پرداخت
ہر ایک قسم کے کبوتروں میں نامہ بری کے لیے ’’موصل‘‘ کے کبوتر سب سے اعلیٰ گنے جاتے تھے اور ان کو مناسیب کہتے تھے۔ اور پھر ان کبوتروں میں خاص خاص نسل کے کبوتر عمدہ اور قیمتی گنے جاتے تھے۔

چنانچہ بغداد میں خلیفۂ ناصر کے وقت میں ایک ایک موصلی عمدہ کبوتر ہزار ہزار دینار تک فروحت ہوتا تھا۔ ان کے خاص خاص شجرۂ نسب ہوا کرتے تھے اور نسب نامے بڑی تحقیق کے ساتھ لکھے جاتے تھے۔ ان کی غور پرداخت کے لیے خاص ایک وسیع محکمہ قائم کیا گیا تھا (یہ محکمہ 591 ہجری میں قائم کیا تھا) جن میں ان کی تعلیم کے لیے اس فن کے جاننے والے مقرر کیے جاتے تھے۔ اور اس محکمہ میں اس قسم کی کتابیں تصنیف ہوئی تھیں، جن میں ان کے نسب نامے اور طریقہ تعلیم وغیرہ بطور دستورالعمل کے درج ہوں۔

چناں چہ قاضی محی الدین بن ظاہر نے ایک کتاب ان کے عادات، خصائل اور طریقِ پیغام رسانی پر لکھی ہے جس کا نام تمائم الحاتم ہے۔ الغرض ان کی غور پرداخت کی طرف خاص توجہ تھی اور بڑی محنتوں اور صرفِ کثیر کے بعد کہیں ان سے مفید کام لیے جاتے تھے۔

(ہندوستان کے صاحبِ اسلوب ادیب اور انشا پرداز ابوالکلام آزاد کے مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں