The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کیلیے کام کرنے والا اہم ملزم 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور : حتساب عدالت نے شریف گروپ آف کمپنیز کے سی او ایف محمد عثمان کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے دوبارہ 17 اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف گروپ آف کمپنیزکےسی ایف او محمد عثمان کےجسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی، سی ایف او محمد عثمان کو عدالت میں پیش کیا۔

نیب پراسیکیوٹر وراث علی جنجوعہ نے احتساب عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا محمدعثمان کیخلاف نیب میں گرفتارملزمان کےبیانات کی روشنی میں گرفتارکیا گیا، محمد عثمان کی گرفتاری قانون کے مطابق ہے،  ان کی گرفتاری ٹھوس شواہدکی روشنی میں عمل میں لائی گئی۔

محمدعثمان شریف فیملیزکیخلاف منی لانڈرنگ کیلئےکام کرتارہا ہے۔

نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ  محمدعثمان شریف فیملیزکیخلاف منی لانڈرنگ کیلئےکام کرتارہا ہے، عدالت ملزم سے تفتیش کے لیے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دے۔

سی ایف او محمد عثمان کے وکیل علی رضا ایڈووکیٹ نے  جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئےکہا محمد عثمان کوسیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا، 28جولائی کو چیئرمین نیب نے منی لانڈرنگ کیس پرخود پریس ریلیز جاری کرائی، پریس ریلیز میں بتایا گیا منی لانڈرنگ کا ریفرنس تیار ہے جلد دائر ہوگا، نیب کی جانب سے محمدعثمان کی گرفتاری سمجھ سے باہر ہے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹرسےاستفسار کیا کیا ملزم کو بتایاگیا کس گراؤنڈ پرگرفتار کیاگیا ، نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم کوباقاعدہ گراؤنڈ آف اریسٹ دےدی گئی تھی۔

عدالت نے محمد عثمان سے استفسار کیا کہ آپ کو کہاں سے گرفتار کیا گیا، ملزم نے بیان میں کہا ملتان روڈپر جا رہا تھا ،2روز قبل نیب نے گرفتار کیا اور استدعا کی بیان بلڈ پریشر کا مریض ہوں ،گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد بعد ملزم محمد عثمان کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا اور  سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی۔

یاد رہے قومی احتساب بیورو نے منی لانڈرنگ میں شریف خاندان کو معاونت فراہم کرنے والے اہم ملزم کو حراست میں لیا تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ ’محمد عثمان بطور سی ایف او شریف خاندان کے اکاؤنٹس پر نظر رکھتا تھا، ملزم غیر قانونی طریقے سے شریف خاندان کے لیے پیسہ باہر بھیجنے میں بھی ملوث ہے‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں