العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز، نواز شریف کی کل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور
The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز، نواز شریف کی کل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

اسلام آباد : العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز کی سماعت میں عدالت نے نواز شریف کی کل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی اور خواجہ حارث کے اعتراض پر 30 اگست کو سماعت کے دوران قلمبند نیب کا آخری پیرا حزف کر دیا۔

تفصیلا ت کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی ، نواز شریف کو سخت سکیورٹی میں عقبی دروازے سے احتساب عدالت پہنچایا گیا۔

سماعت کے آغاز میں خواجہ حارث کے اعتراض پر پراسیکیوٹرسردار مظفرعباسی نے جواب ریکارڈ کرایا، سردارمظفر نے کہا کہ خواجہ حارث نے اعتراض کے نام پر سماعت کی پوری کہانی بیان کی، تخیل پرمبنی کہانی قانون اعتراض کی صورت میں قبول نہیں کی جا سکتی، اپنی ہی کہانی اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سنائی گئی۔

احتساب عدالت میں نیب پراسیکیوٹرسردارمظفر نے دلائل میں تیس اگست کی کارروائی سے متعلق وکیل کا اعتراض گمراہ کن قرار دے دیا اور انھوں کہا سوال پوچھا گیا تھا کیا حسین نواز نے آلڈرآڈٹ بیورو رپورٹ دی، تو واجد ضیا نے جواب میں کہا آلڈر آڈٹ بیورو رپورٹ جے آئی ٹی کو دی، وکیل صفائی کے ردعمل سےعدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔

سردارمظفر نے کہا ‘سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے، جس پر جج نے کہا کیا ہائی کورٹ سے آپ کی درخواست پرمختصرحکمنامے کی کاپی آگئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے ہائی کورٹ کے حکمنامے کی کاپی عدالت میں پیش کردی اور کہا ہائی کورٹ خواجہ حارث کے اعتراضات مسترد کرچکی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا میں اپنا جوالجواب دینا چاہوں گا، انہوں نے کہا ہائیکورٹ میں ہمارے اعتراضات مسترد ہوئے، یہ غلط بات ہے ہمارے کوئی اعتراضات مسترد نہیں ہوئے۔

جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکمنامے کی کاپی ہمارے سامنے آچکی ہے، جس پر خواجہ حارث نے کہا دو فریقین موجود ہیں، ہماری بات بھی لکھا کریں تو جج نے کہا بات سنیں! کل آپ نے اعتراض لکھوادیا تھا، کیا آپ کے لکھوانے کے دوران کسی نے اعتراض کیا؟

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کی کل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

احتساب عدالت میں واجد ضیا نے بتایا کہ والیم 6 کے صفحہ 178 سے 181پر سورس دستاویزات ہیں، خواجہ حارث نے سوال کیا والیم 6 کے صفحہ 4 پر سورس دستاویزات کی فہرست دی ہے؟ جس پر واجد ضیا نے جواب میں کہا جی صفحہ 4 پر دستاویزات کی فہرست موجود ہے۔

گواہ واجدضیا نے کہا سیریل نمبر 10 پر رپورٹ کا نام بھی فہرست میں موجودہے، میں نے اپنے بیان میں عدالتی ریکارڈ پر رکھا ہے، ایلڈر رپورٹ کا نام غلطی سے سورس دستاویزات میں شامل ہوا، ریفرنس کے علاوہ ایون فیلڈ ریفرنس میں اس غلطی کی نشاندہی کی۔

وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا والیم 6 کی تیاری کے وقت کسی نے غلطی کی نشاندہی نہیں کی؟ جس پر واجد ضیا نے کہا اس وقت کوئی نشاندہی کرتا توہم نے تصحیح کر دی ہوتی، والیم 6 کی تیاری کے وقت کسی نے اس غلطی کی نشاندہی نہیں کی، والیم 6 کے صفحہ 6 پر حسین نوازکی پیش دستاویزات دی گئی ہیں، حسین نواز کی نواز شریف کو تحفے میں بھیجی رقوم کی تفصیل موجود ہے۔

خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے جرح میں کہا میں آپ سے وہی پوچھوں گا جو جے آئی ٹی رپورٹ میں آپ نے لکھا ہے۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے جرح میں عدالت کو بتایا آٹھ مئی 2017 کو جے آئی ٹی نے اپنا کام شروع کیا پہلے دو ہفتوں میں جے آئی ٹی میں آلڈر آڈٹ رپورٹ زیر بحث لائیں گئی اور 30 مئی کو حسین نواز کی پہلی پیشی تھی، حسین نواز کی جےآئی ٹی میں پہلی پیشی سے پہلے آلڈر آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے چکے تھے۔

واجد ضیاء نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ 5 سیشنز کا اکھٹا پوچھ لیں کیونکہ جواب تو ایک ہی آئے گا، جس پرخواجہ حارث نے جواب دیا ہم پہلے ایک سیشن کی بات کر رہے ہیں۔

عدالت نے خواجہ حارث کے اعتراض پر 30 اگست کو سماعت کے دوران قلمبند نیب کا آخری پیرا حزف کر دیا اور مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

خواجہ حارث استغاثہ کے گواہ جے آئی ٹی پانامہ کے سربراہ واجد ضیاء کے بیان پر کل بھی جرح جاری رکھیں گے۔

گذشتہ روز نوازشریف کے خلاف سماعت میں جج ارشد ملک کو وکیل صفائی خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا کہ ہمارا اعتراض ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔

احتساب عدالت میں پیشی پر نوازشریف سے شہبازشریف نے دو گھنٹے طویل ملاقات بھی کی، ملاقات میں شہباز شریف نے نواز شریف کو صدارتی انتخاب سے متعلق آگاہ کیا جبکہ پارلیمانی اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بھی نوازشریف کو بریفنگ دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزاورفلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید 6 ہفتے کی مہلت دی تھی۔

واضح رہے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما میں آف شور کمپنیوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب کی جانب سے 3 ریفرنس دائر کیے گئے جن میں سے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال قید جبکہ کیپٹن صفدر کو 1 سال قید کی سزا بمعہ جرمانہ سنائی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں