The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس: خواجہ حارث کی واجد ضیاء پرجرح

اسلام آباد: احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف احتساب عدالت میں موجود ہیں جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پرخواجہ حارث کی جرح تیسرے روز بھی جاری ہے۔

واجد ضیاء نے سماعت کے آغازپرعدالت کوبتایا کہ طارق شفیع نے بتایا محمد حسین کے ورثا انہیں لاہورملنے آئے تھے، طارق شفیع سے محمدحسین کے بیٹے شہزاد حسین کا پتہ پوچھا تھا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ طارق شفیع نے محمد شہزاد کا رابطہ نمبر نہیں دیا، جے آئی ٹی نے پتہ لگانے کی کوشش کی لیکن شہزاد سے رابطہ نہ ہوسکا، طارق شفیع سے محمد شہزاد سے متعلق سوال جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ 1978کے شئیرزسیل معاہدے کے مطابق طارق شفیع، محمدحسین شرکت دار تھے، معاہدے پرعملدرآمد سے پہلےمحمد حسین فوت ہوچکے تھے۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ معاہدے کے ساتھ خط پرمحمد حسین کے قانونی ورثا کے دستخط تھے، طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بتایا محمد حسین کے قانونی ورثا زندہ ہیں۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ جوبات میں نے کی وہ طارق شفیع کے جےآئی ٹی میں بیان سے ظاہرنہیں، جےآئی ٹی نے شہزاد حسین کا پتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جےآئی ٹی نے 1980 کے معاہدے میں عبداللہ اہلی کو شامل تفتیش نہیں کیا، ہمارے نوٹس میں آیا 1980 کے معاہدے کا گواہ عبدالوہاب ابراہیم تھا۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ معاہدے اورمتن کی تصدیق کے لیے گواہ عبدالوہاب کوشامل تفتیش نہیں کیا، 1980 کے معاہدے کے دوسرے گواہ لاہور سے محمد اکرم تھے۔

انہوں نے کہا کہ محمد اکرم کوڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے، محمداکرم کے پتے سے متعلق طارق شفیع سے کوئی سوال نہیں کیا، جےآئی ٹی میں پیش کسی بھی شخص سے محمد اکرم سے متعلق سوال نہیں کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 1980 کے معاہدے میں دیے گئے محمد اکرم کے پتے پرسمن بھی نہیں بھیجا، محمداکرم کو ڈھونڈنے کی کوشش کوجےآئی ٹی رپورٹ میں درج نہیں کیا۔

واجد ضیاء نے کہا کہ 1980 کے معاہدے پرپاکستان کے یواےای میں قونصل خانے کی تصدیق تھی، پاکستانی قونصل خانے میں منور حسین کمال نے تصدیق کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی نے منورحسین قونصل اتاشی کوشامل تفتیش نہیں کیا، یہ معاہدہ جعلی تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ اگر اس معاہدے کوجعلی نہ کہتے تو یہ سوال ہی نہ پوچھتے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ سوال میں پوچھ ہی اس لیے رہا ہوں آپ نے معاہدے کوجعلی کہا، یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں آپ کا جواب مستند ہے یا نہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ معاہدےکی تصدیق کرنے والے کی تصدیق کے لیے قونصل خانے کا دورہ نہیں کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح مکمل ہونے پرنیب کے تفتیشی افسرکا بیان قلمبند کیا جائے گا۔

ایسی دستاویزنہیں ملی کہ نوازشریف ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے مالک ہوں ‘ واجد ضیاء

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پراستغاثہ کے گواہ کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی کوہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کی رجسٹریشن کی دستاویزنہیں ملی، ایسی دستاویزنہیں ملی کہ نوازشریف ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کےمالک ہوں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ نوازشریف کے ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا براہ راست مالک ہونے کا ثبوت نہیں جبکہ حسین نوازدراصل نوازشریف کے بے نامی دارہیں۔

واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ یہ بات ریکارڈ پرہے کمپنی کا منافع ٹرانزیکشن سے نوازشریف کوآیا جس پرنوازشریف کے وکیل نے کہا تھا کہ یہ اپنے بیان میں کہانی سنا چکے ہیں۔

واجد ضیا کا کہنا تھا کہ گواہ عبداللہ اہلی سے رقم کا جاننے کے لیے انہیں شامل تفتیش نہیں کیا۔

گواہ کا کہنا تھا کہ 1978 کے گلف اسٹیل کے معاہدے کے مطابق رقم 2 کروڑ 13 لاکھ درہم سے زائد تھی، 1978 کے شیئر فروخت کے معاہدے کے مطابق رقم ایک کروڑ 20 لاکھ درہم تھی۔

واجد ضیاء نے کہا کہ دبئی کسٹم کے ریکارڈ کے مطابق دبئی سے جدہ اسکریپ مشینری نہیں گئی، لیٹر آف کریڈٹ کے مطابق مشینری شارجہ سے جدہ گئی، دبئی سے نہیں گئی، لیٹر آف کریڈٹ ایم ایل اے کےساتھ بھیجا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل اے میں 2 سوال پوچھے گئے، لیٹر میں اسکریپ مشینری کی دبئی سے جدہ ٹرانسپورٹ کا سوال پوچھا گیا، دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ لیٹر آف کریڈٹ اصل ہے۔

وکیل صفائی خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب پراسیکیوٹر گواہ بن جائیں ان سے سوال پوچھ لیتا ہوں، جس پر نیب پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ آپ مجھ سےنہیں عدالت سے مخاطب ہوں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جو واجد ضیا کا جواب ہے وہ لکھوا دیں، ایم ایل کے تحت پہلے سوال کا جواب دیا، جواب میں دوسرا سوال شامل نہیں، جس پر واجد ضیا نے کہا کہ اس سوال کا از خود جواب دینا چاہتا ہوں۔

واجد ضیا کے گواہپ نے بتایا کہ ایل سی میں سکینڈ ہینڈ مشینری کا ذکر ہے، ایم ایل کے جواب میں اسکریپ مشینری درج ہے۔

واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ لیٹر آف کرڈیٹ میں اسکریپ مشینری شارجہ سے جدہ جانے کا ذکر ہے، ایم ایل کے جواب میں دبئی سے اسکریپ مشینری جدہ جانے کا ذکر ہے، لیکن لیٹر آف کریڈٹ کا ذکر نہیں۔

خواجہ حارث نے واجد ضیا کے جواب میں کہا کہ کوئی ایسی دستاویز دکھا دیں جس میں لکھا ہو ایل سی جعلی ہے۔ جس پر گواہ نے کہا کہ وہ ایم ایل اے کا جواب ہے، خواجہ حارث نے پھر کہا کہ اس میں لکھا ہے تو دکھا دیں۔

واجد ضیاء نے سماعت کے دوران بتایا کہ لیٹر آف کریڈٹ کی کاپی متفرق درخواست سے لی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کیا کاپی حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بھی دی۔

واجد نے العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ حسین نواز نے لیٹر آف کریڈٹ کی کاپی جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کی، ٹرانسپورٹیشن آف گڈز سے متعلق حسین نواز سے سوال کیے تھے، حسین نواز سے ایل سی سے متعلق مخصوص سوال نہیں کیا،

احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل کیس کی سماعت کو 11 جون تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں