site
stats
صحت

جذبات کو چھپانا صحت کے لیے سخت نقصان دہ

بعض افراد اپنے منفی جذبات جیسے غصہ، الجھن یا بیزاری کو چھپا کر چہرے پر خوش اخلاقی سجائے پھرتے ہیں، تاہم ماہرین نے ایسے لوگوں کے لیے وارننگ جاری کردی ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق منفی جذبات کو دبا کر رکھنا اور ان کا اظہار نہ کرنا دماغی تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق منفی جذبات جیسے الجھن، غصے یا بیزاری کا اظہار کردینے سے دماغ پرسکون ہوجاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد آپ اس بات کو بھول جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: غصے کو پی جانا خطرناک بیماری کا باعث

اس کے برعکس اگر آپ ان کا اظہار نہیں کرتے تو وہ ایک بوجھ کی صورت آپ کے ذہن پر سوار رہتی ہیں نتیجتاً آپ کو ذہنی تناؤ یا ڈپریشن میں مبتلا کرسکتی ہیں۔

ماہرین نے تحقیق میں یہ بھی بتایا کہ وہ افراد جو موڈ ڈس آرڈرز کاشکار ہوتے ہیں، وہ اسے غلط سمجھنے کے بجائے اسے تسلیم کریں اور اس کے بارے میں مثبت اندز سے سوچیں تو وہ اس پر قابو پانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

موڈ ڈس آرڈرز میں موڈ میں اچانک غیر متوقع تبدیلیاں ہوتی ہیں جبکہ اچانک اور بغیر کسی وجہ کے اداسی یا مایوسی محسوس کرنا بھی اس کی علامت ہے۔

موڈ ڈس آرڈرز کے بارے میں جانیں

تحقیق میں شامل ایک پروفیسر کے مطابق، ’لوگ اپنے اس ڈس آرڈر کو قبول نہیں کر پاتے۔ وہ خود کو کسی کمزوری کا شکار سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ غلط ہے۔ ان ڈس آرڈرز کو کسی جسمانی بیماری کی طرح سمجھ کر ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہیئے تب ہی ان پر قابو پایا جاسکتا ہے‘۔

ماہرین کے مطابق موڈ اور احساسات میں آنے والی مختلف تبدیلیوں کا ابتدا میں ہی مشاہدہ کر کے ان کے تدارک کی کوششیں کی جائیں تو مرض کو شدید ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: جذبات ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top