The news is by your side.

Advertisement

موٹر کار کا وہ حادثہ جس میں‌ دنیا کا پہلا انسان ہلاک ہوا!

ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی افسوس ناک سنتے ہوئے آپ کے ذہن میں‌ شاید یہ سوال بھی آیا ہو کہ دنیا میں پہلا کار حادثہ کب ہوا یا کسی موٹر کار کی وجہ سے ہلاک ہونے والا پہلا انسان کون تھا؟

1840ء کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ایسی موٹر کاریں تیّار کی جاسکتی ہیں جنھیں بہت جلد بھاپ کی مدد سے چلانا ممکن ہوگا، لیکن ایسا نہیں‌ ہوسکا۔ اس زمانے کی یہ کار گزاری اور ایجاد ریل کے لیے تو کارآمد ثابت ہوئی، لیکن چوں کہ کاریں بہت وزنی اور بھاری ہوتی تھیں، اس لیے ان کا ناہموار زمین پر چلنا آسان نہ تھا۔ تاہم اس حوالے سے سائنس دان اور موجد تجربات اور آزمائشوں میں مصروف تھے اور موٹر کاریں بھی بنائی جارہی تھیں۔

آئرلینڈ کی رہائشی میری وارڈ کے ایک کزن نے بھی ایک موٹر کار تیّار کی اور 31 اگست 1869ء کو اس کی آزمائش کے لیے گھر سے نکلا۔ میری وارڈ بھی اپنے کزن کے ساتھ بھاپ سے چلنے والی اس کار میں سوار ہوگئی۔ اس کا شوہر، دو رشتہ دار اور ان کے ایک استاد بھی اس گاڑی کے مسافر تھے۔ موٹر کار آگے بڑھی۔ سبھی مسافر اس آزمائشی سفر کے دوران ایک انجانی مسرّت محسوس کررہے تھے۔

وہ سوچ بھی نہیں‌ سکتے تھے کہ خوشی کے یہ لمحے اور بے پناہ مسرّت انھیں ایک آزار کی جانب دھکیل رہی ہے اور اس کار کا ایک مسافر، جو ان کا اپنا ہے، موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ایک مقام پر جب تنگ موڑ آیا تو اچانک میری وارڈ گاڑی سے باہر جاگری اور اسی گاڑی کے نیچے آکر کچلی گئی۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

کہتے ہیں‌ کہ یہی میری وارڈ وہ پہلی انسان تھی جو موٹر کار کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہوگئی۔ حادثے کے وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔

میری وارڈ آئرلینڈ میں 1827ء میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کی فرد تھی جو بالخصوص سائنس کے لیے معروف تھا۔ میری بھی نہایت قابل اور باصلاحیت لڑکی تھی جو کم عمری ہی میں قدرتی ماحول، مظاہرِ فطرت اور فلکیات میں دل چسپی لینے لگی تھی۔ یہ اپنے والد ہنری اور والدہ ہیرٹ کنگ کی تیسری اولاد تھی۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو گھر پر تعلیم دینے کا رواج تھا اور کالج یا جامعات میں ان کا داخلہ حاصل کرنا مشکل تھا۔ میری وارڈ اور اس کی بہنوں کو گھر پر ہی ابتدائی تعلیم دی گئی، لیکن وہ عام لڑکیوں کے مقابلے میں مختلف تھی، کیوں کہ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔

میری وارڈ چار سال کی تھی جب اس نے مختلف اقسام کے حشرات کا مشاہدہ اور انھیں باقاعدہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ جلد ہی وہ فلکیات میں دل چسپی لینے لگی، کیوں کہ اس کے ایک کزن نے اس وقت ایک دور بین تیّار کرلی تھی جسے 1917ء تک دنیا کی سب سے بڑی دور بین سمجھا جاتا رہا۔ اس دور بین نے میری کو غور و فکر اور فلکی اجسام کے مطالعے میں مدد دی اور ان کے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

لائقِ توجہ امر یہ ہے کہ میری وارڈ نے رسمی تعلیم کو اپنے لیے کافی نہیں جانا اور اپنے علم کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ جاننے کی غرض سے اس دور کے ماہرین اور اساتذہ سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایک مرتبہ معروف ماہرِ فلکیات جیمز ساؤتھ نے اسے محدب عدسے سے حشرات کا معائنہ کرتے دیکھا اور ساتھ ہی میری کی بنائی ہوئی حشرات کی تصاویر بھی دیکھیں تو بہت حوصلہ افزائی کی۔ والد نے انہی کہنے پر اپنی بیٹی کو ایک خرد بین دلا دی جس سے میری نے بہت فائدہ اٹھایا۔

اس کے علمی و تحقیقی کام کو دیکھتے ہوئے میری کو رائل سوسائٹی کا صدر بھی بنایا گیا۔ وہ ان تین خواتین میں شامل تھی جنھیں باقاعدگی سے ڈاک بھیجی جاتی تھی۔

1854ء میں وہ ہنری وارڈ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئی اور یہ خاندان سیاسی اور سماجی اعتبار سے مستحکم اور خطاب یافتہ تھا۔ یہا‌ں بھی اسے اپنے سائنسی اور تحقیقی کام کو جاری رکھنے کا موقع ملا۔

جب میری نے اپنی پہلی کتاب "خرد بین سے حاصل شدہ خاکے (Sketches with the Microscope)” تصنیف کی تو اس کا خیال تھا کہ یہ کتاب شائع نہیں ہوگی، کیوں کہ اس وقت سماج میں عورتوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ یوں بھی میری وارڈ کا کسی قسم کا تعلیمی پس منظر نہیں تھا۔ تب اس نے ذاتی طور پر اپنے کام کی نقل تیّار کروا کے اس کی تشہیر کروائی اور اس کی شہرت نے لندن کے ناشروں کو اس جانب متوجہ کرلیا۔ اس کی کتاب اوّلین اشاعت کے بعد آٹھ مرتبہ "خرد بین سے منکشف ہونے والے عجائب کی دنیا (A world of Wonders Revealed by the Microscope)” کے عنوان سے بازار میں فروخت کے لیے لائی گئی۔

ان کی کتابیں اے ونڈ فال فار دا مائیکرو اسکوپ (1856)، اے ورلڈ آف ونڈرز ریویلڈ بائے دا مائیکرو اسکوپ (1857)، مائیکرو اسکوپ ٹیچنگز (1864) اور ٹیلی اسکوپ ٹیچنگز (1859) شائع ہوئیں۔ میری وارڈ نے متعدد تحقیقی مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔ کئی برس بعد اس خاتون سائنس دان کے گھر کو میوزیم کا درجہ دے کر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں