The news is by your side.

Advertisement

دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر : سابق وزیراعظم کی نقل اتارنے پر اداکار کے خلاف مقدمہ درج

ممبئی: بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ پر بنائی جانے والی فلم ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ ریلیز سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہوگئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم، کانگریس جماعت کی اہم شخصیات کو منفی انداز میں پیش کرنے پر  فلم ڈائریکٹر، اداکار انوپم کھیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارتی ریاست بہار کی عدالت میں وکیل سدھیر کمار اوجھا نے درخواست دائر کی جسے سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا۔

مقدمے کی سماعت 8 جنوری کو ہوگی، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ میں من موہن سنگھ، سنجایا بارو، سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کی شخصیت کو بالکل غلط انداز سے پیش کیا گیا جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو تکلیف پہنچی۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر من موہن سنگھ، بھارت کے حادثاتی وزیراعظم۔۔ ویڈیو سامنے آگئی

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار نے کانگریس جماعت کے کارکنان اور ووٹرز کی دل آزاری کی، عدالت سے گزارش ہے کہ فلم کی ریلیز کو روکنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے کہ ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ رواں ماہ 11 جنوری کو سینیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

قبل ازیں فلم کا ٹریلر 27 دسمبر کو جاری کیا گیا تھا جس میں بھارت کے عالمی ممالک سے معاہدے اور کانگریس رہنماؤں کی من موہن سنگھ مخالفت کے بارے میں دکھایا گیا۔

ٹریلر میں یہ بھی دکھایا گیا کہ من موہن سنگھ بین الاقوامی معاہدوں میں درمیانے شخص کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ ملوث ہے۔

فلم میں سونیا گاندھی کا کردار جرمن اداکارہ سوزانے بیرنیرت نے نبھایا جبکہ آہنہ کمار پریانکا گاندھی، ارجن مدتھور راہول گاندھی کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم کا ٹریلر اور اسکی ریلیز اایسے وقت میں کی جارہی ہے کہ جب ملک میں لوک سبھا کے انتخابات عین سر پر ہیں، اس ضمن میں انوپم کھیر سے سوالات بھی کیے گئے۔

اداکار کا کہنا تھا کہ ’ملک کی حب الوطنی سے متعلق بنائی جانے والی فلم آزادی کے روز دکھائی جاتی ہیں، اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ الیکشن کے دنوں میں اس فلم کو ریلیز کیا جائے، میرا نہیں خیال ’حادثاتی وزیراعظم‘ سے کسی ووٹر کا رجحان تبدیل ہوگا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہر ووٹر اپنی سیاسی وابستگی اور ملک کی بہتری کو دیکھتے ہوئے ووٹ دیتا ہے، اگر ہماری فلموں کی وجہ سے کسی کے وزیراعظم بننے یا نہ بننے کا فیصلہ ہوتا ہے تو اسے مضحکہ خیز ہی قرار دیا جاسکتا ہے‘۔

 یہ بھی پڑھیں:  وزیراعلیٰ قتل کا حکم دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مقدمہ درج

انوپم کھیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر  بین الاقوامی فلم ہے کیونکہ اس میں بہت سارے ایسے موضوعات بھی دکھائے گئے جن کا تعلق عالمی ممالک سے ہے’۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ 2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیر اعظم رہے، بعد ازاں اُن کی زندگی پر ایک کتاب لکھی گئی جس پر یہ فلم بنائی جارہی ہے۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر سنجایا بارو وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزر تھے جنہوں نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کے بعد کتاب لکھی اور پھر اسے شائع کروایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میری کتاب میں چند ایسے انکشافات اور واقعات موجود ہیں جنہیں پڑھ کر سب دنگ رہ جائیں گے، یہ کتاب لکھ کر میں نے اپنا قومی حق ادا کیا‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں