site
stats
اہم ترین

ایون فیلڈریفرنس کے بعدعزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نوازشریف پر فردجرم عائد

Sharif Family

اسلام آباد: احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نااہل نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نواز شریف پر فردِ جرم عائد کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنسز کی سماعت کی، سماعت میں مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پیش ہوئے۔

احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی اور ملزمان کو فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے۔

عدالت میں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا جبکہ نا اہل نوازشریف پرفرد جرم ان کے نمائندے ظافرخان کے ذریعے عائد کی گئی۔

ظافر خان نے نوازشریف کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا اور کہا کہ آئین میرے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور شفاف ٹرائل میرا بنیادی حق ہے۔

احتساب عدالت نے فرد جرم کی کارروائی کے بعد استغاثہ سے شہادتیں طلب کرتے ہوئے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

نواز شریف پر عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی فردجرم عائد

دوسری جانب نوازشریف پر دوسرے ریفرنس عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی فردجرم عائد کردی گئی، نوازشریف کے نمائندے ظافرخان نے صحت جرم سے انکار کیا، جس کے بعد نوازشریف کیخلاف عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں شہادتیں طلب کرلی ہے، عدالت نےعزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں نیب کےگواہ طلب کرلیے۔

فردجرم کے متن میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف نےسرکاری عہدےلینےکےساتھ ساتھ کاروبارکیا ، وزارت اعلیٰ اوروزارت عظمیٰ کےباوجوداپنےنام سےکاروبارکیاگیا، 1991 میں نوازشریف نےکاروباربچوں کےنام منتقل کیا۔

متن کے مطابق کہ کروڑوں روپےکےفنڈزبچوں نےوالدکوتحفےمیں دیے، نوازشریف نے1983سےٹیکس دیناشروع کیا، گلف اسٹیل مل کامعاہدہ بھی غلط تھا، حسن نوازطالب علم تھےمگران کےنام پربےنامی جائیدادخریدی گئی۔

دوسری جانب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نوازشریف پر فردجرم کی کارروائی کل تک مؤخر کردی گئی ، فرد جرم کی کارروائی عدالتی وقت ختم ہونے پرملتوی کی گئی۔


وزیراعظم کی وکیل عائشہ حامد


خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت میں سماعت کے دوران نوازشریف کی وکیل عائشہ حامد نے سماعت روکنے کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا جس کے بعد نااہل وزیراعظم نوازشریف کی جانب سےتینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے نوازشریف کی وکیل کی جانب سےتینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

احتساب عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو نااہل وزیراعظم نوازشریف کی وکیل عائشہ حامد نے احتساب عدالت میں درخواست دائرکی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ میں نیب کے تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست کر رکھی ہے لہذا جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ آئے اس وقت تک سماعت کی کارروائی روکی جائے۔

عائشہ حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا گیا اور ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ تمام ریفرنسز کا انحصار جے آئی ٹی رپورٹ پر ہے، تمام ریفرنسزایک جیسے ہیں جن میں بعض گواہان مشترک ہیں۔

عائشہ حامد نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست کے تفصیلی فیصلے کا بھی انتظار ہے جبکہ ریفرنسز یکجا کرنے کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پہلے ہی مسترد کی جاچکی ہےاور سپریم کورٹ نے ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر حکم امتناع ابھی نہیں دیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفرنے کہا تھا کہ کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرکے نوازشریف اور دیگرملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے۔


ایڈووکیٹ امجد پرویز


احتساب عدالت میں سماعت کے دوران مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے فرد جرم نہ عائد کرنےکی درخواست کی تھی جس میں کہا گیا کہ ابھی تک والیم 10 کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ گواہوں کے بیانات کی کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی، بیانات اوروالیم 10 کی کاپی کی فراہمی تک فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا تھا کہ جن کے بیانات ریکارڈ کیے وہ استغاثہ کے گواہوں کی فہرست میں نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ جن 3 افراد کے بیان کا ذکر کیا انہیں ملزم بنانا ہے یا گواہ بنانا ہے۔


مریم نوازکی کمرہ عدالت میں صحافیوں سےغیررسمی گفتگو


مریم نواز نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف رواں ہفتے کےآخر یا آئندہ ہفتے واپس آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سزا پہلے سنائی گئی ٹرائل بعد میں ہورہا ہے۔

نااہل وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ والدہ کی کیمو تھراپی ہوئی ہے ،صحت بہتر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پہلی بارایسا ہورہا ہے کہ سسلین مافیاعدالتوں میں پیش ہورہے ہیں۔

مریم نواز کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس، اسپیشل برانچ، ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔


احتساب عدالت میں بدمزگی‘ سماعت بغیرکارروائی کے 19اکتوبرتک ملتوی


یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پراحتساب عدالت کے جج نے کمرہ عدالت میں وکلا کی ہلڑ بازی کے باعث سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پرفرد جرم کی کارروائی 19 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top