The news is by your side.

نوازشریف اورمریم نواز کی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست پرفیصلہ محفوظ

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت میں موجود تھے۔


نوازشریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں


سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز نے نیب ریفرنسز میں 7 دن حاضری سے استثنیٰ کی درخواست عدالت میں جمع کرادی، درخواست کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26 مارچ سے ایک ہفتےکے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے اوراس دوران نوازشریف کی جگہ ان کے نمائندے علی ایمل عدالت میں پیش ہوں گے جبکہ مریم نواز کی جگہ ان کے نمائندے جہانگیرجدون پیش ہوں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے نوازشریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کررکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں نہیں لکھا خاندان کولندن میں ہونا چاہیے، حسن اورحسین نواز پہلے ہی لندن میں موجود ہیں اور علاج کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔


واجد ضیاء کا بیان


جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ 14اپریل 1989 کوایک معاہدہ ہوا، 12 ملین درہم کی رقم طارق شفیع نے قطری شہزادے کودی تھی، رقم معاہدےکے نقد دی گئی، رقم ایون فیلڈ پراپرٹیزسمیت العزیزیہ کے لیے بھی دی گئی۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ یو اے ای نے جوابی خط میں ہالی اسٹیل مل کا ریکارڈ نہ ہونے کا جواب دیا، ان کے ریکارڈ کے مطابق 25 فیصدشیئرزکا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ کوئی ایسا ریکارڈ بھی نہیں ملا جو دبئی نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ ہو، نوازشریف کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ دستاویزات کو دیکھ کرپڑھ رہا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے گواہ واجد ضیاء کو ہدایت کی کہ وہ دیکھ نہ پڑھیں، جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ ظاہرہوتا ہے 14اپریل 1980 کا معاہدہ جعلی اورخود ساختہ ہے، جےآئی ٹی کے مطابق اس حوالے سےغلط بیانی کی گئی۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ سے اخذ کیا گیا لندن فلیٹس سے قطری خاندان کا تعلق نہیں ہے جبکہ التوفیق سیٹلمنٹ میں قطری خاندان کا ذکر نہیں ملتا، سیٹلمنٹ کے مطابق 1999میں فلیٹس شریف فیملی کے تھے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ لندن فلیٹس شریف خاندان کے 2 افراد کی ملکیت تھے جس پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کی رائے ہے اس کے ثبوت نہیں ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء جے آئی ٹی رپورٹ کا سہارا لے رہے ہیں، واجد ضیاء نے کہا کہ والیم 5 کے صفحہ 19 پرعدالت کے سوالوں کے جواب دیے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ بیئررشیئرزحماد بن جاسم نے حسین نوازکومنتقل کیے، قطری شہزادے سے خط وکتابت ثبوت ہے ممکنہ کوششیں کیں، قطری شہزادے نے جواب میں پہلے تاخیری حربے آزمائے۔


نگراں حکومت کے لیے اپوزیشن کومل بیٹھ کربات کرنی چاہیے‘ نوازشریف


واجد ضیاء نے کہا کہ قطری شہزادے نے بعد میں پیش نہ ہونے کے جوازبنائے، قطری شہزادے نے کہا تھا پیش ہونے کا نہیں بولا جائے گا، جےآئی ٹی نے اس کے باوجود کافی شواہد اکٹھے کیے۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ یواےای حکومت، بی وی آئی کا جواب، ریڈلے رپورٹ موجود ہے، شواہد سے ثابت ہےکہ فلیٹس پرقطری شہزادے کے مؤقف کی حیثیت نہیں ہے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے نیب ریفرنسز میں 7 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔


ایون فیلڈ ریفرنس، نواز شریف کی متفرق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری


خیال رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی متفرق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ واجد ضیاء ملزمان کے گناہ گار یا بے گناہ قرار دینے پر رائے نہیں دے سکتے، وہ بطور گواہ بیان ریکارڈ کرائیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ قانونی شہادت کے مطابق متعلقہ شعبے کے ماہرین کی آرا قبول ہوگی، وکیل صفائی کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔

یاد رہے کہ 16 مارچ کو جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کی جانب سے اصل قطری خط عدالت میں پیش کیا گیا تھا جبکہ لفافے پرقطری خط اصل ہونے کی سپریم کورٹ کے رجسٹرارکی تصدیق تھی۔

احتساب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی سربراہ سے استفسار کیا تھا کہ یہ وہ خط نہیں ہے جس کی نقل کل عدالت میں پیش کی گئی تھی جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا تھا کہ اصل خط سربمہرلفافے میں تھا، میراخیال تھا یہ کل والے خط کا اصل ہے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے واجد ضیاء کے پیش کیے گئے خط پراعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے کہا گیا تھا یہ کل والے خط کی اصل ہے اور اب کہا جا رہا ہے یہ کل والے خط کی اصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی مریم نواز کی درخواست جزوی طور پرمنظورکرلی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں