site
stats
اہم ترین

احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جاری

Ishaq Dar

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت شروع ہوگئی، ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

احتساب عدالت میں استغاثہ کے 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے، اسحاق ڈار کے وکیل کی جانب سے گواہوں پر جرح کی جائے گی۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے آج کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کرتے ہوئے کہا موکل نے کیبنٹ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے جانا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے لیے بچاؤ کا کوئی کام اہمیت نہیں رکھتا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہو تو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیشہ کے لیے استثنیٰ نہیں مانگ رہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریماکیس دیے کہ کیبنٹ میٹنگ شروع نہیں ہوئی ،سماعت شروع کریں دیکھتے ہیں، سماعت کے دوران نیب کےگواہ طارق جاوید نے ای میل کا ریکارڈ پیش کردیا جسے عدالت نے گزشتہ سماعت پر مانگا تھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث اورنیب پراسیکیوٹرمیں سماعت کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث کا کہنا تھا گواہ کوای میل ہی نہیں ملے گا۔

نیب پراسیکیوٹرعمران شفیق نے کہا کہ گواہ نےتفصیلات عدالت میں پیش کردی اب وہ عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔

خواجہ حارث نے کہا آپ بیٹھ جائیں گواہ پر مجھےجرح کرنے دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ آپ کی توخواہش ہے ہم عدالت سے ہی چلےجائیں، گزشتہ سماعت میں بھی ہمیں کورٹ سےنکالنےکی کوشش کی گئی۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ نیب کےخط میں5 چیزیں مانگی گئیں،ایک جھوٹ چھپانے کے لیے دوسراجھوٹ بولنا پڑتا ہے جس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ بات غلط ہے جھوٹ کی بات نہیں، انہوں نے ای میل مانگی وہ لےآئے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ جھوٹ بول رہا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ عدالتی حکم پرکراچی ہیڈآفس سے ریکارڈ منگوا کرپیش کردیا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ 12بجکر45 منٹ پرطلب تفصیلات12بجکر53منٹ پربھجوا دی، کیا یہ درست ہے؟ جس پر گواہ طارق جاوید نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔

طارق جاوید نے کہا کہ 12بجکر45 منٹ پربھیجی گئی ای میل کاجواب 2 گھنٹےبعد دیا جبکہ ہیڈ آفس کے ساتھ ای میلزکے تبادلےکا ریکارڈ پیش کردیا ہے۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ اس کےعلاوہ اورکوئی ای میل نہیں، نیب کے16 اگست کے خط کی کاپی بھی عدالت میں پیش کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خط کی کاپی والیم 15 کےصفحہ 8 پرموجود ہے۔

طارق جاوید نے کہا کہ ریفرنس سے منسلک خط اورآج پیش کی گئی کاپی میں فرق نہیں ہے۔ انہوں نےکہا کہ میرے سامنے کوئی اکاؤنٹ نہیں کھولا گیا جبکہ جن بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کیں وہ میں نے نہیں کھولے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ کمپنی قانون کےماہرنہیں ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کے پیش کیے گئے ریکارڈ کی بات کررہا ہوں، اگرآنکھیں بند کرکے ریکارڈ پیش کیا ہےتوبتا دیں۔

طارق جاوید نے کہا کہ کہ میں نےصرف اکاؤنٹس کی بینک ریکارڈ سےتصدیق کی،فرسٹ ہجویری مضاربہ کی دستاویزات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام دستاویزات نہیں پڑھیں صرف سرسری جائزہ لیا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ مضاربہ کمپنیوں کا ریکارڈ پیش کیامگرنہیں جانتا کیسے کام کرتی ہیں، نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ کوئی کمپنی کیسے کام کرتی ہے یہ بتانا کسی بینک افسرکا کام نہیں، یہ ایس ای سی پی کے بتانےکا کام ہے۔


احتساب عدالت میں اسحاق ڈارکےخلاف سماعت12 بجے تک ملتوی


اس سے قبل آج عدالت میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کے معاون قوسین فیصل نے اسحاق ڈار کے استثنیٰ کے حوالے سے عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی۔

اسحاق ڈار کے وکیل کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو وزارت کے امور چلانے کےلیے استثیٰ دیا جائے تاہم عدالت نے درخواست خارج کردی۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد خواجہ حارث کے معاون قوسین فیصل نے عدالت کو بتایا کہ استثیٰ کی استدعا دوبارہ کی جائے گی جس پر جج محمد بشیر نے ریماکس دیتےہوئے کہا کہ استثیٰ پر بات خواجہ حارث کی موجودگی میں ہوگی۔

اسحاق ڈار کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔


احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع


خیال رہے کہ احتساب عدالت میں گزشتہ سماعت پر استغاثہ کے دو گواہان طارق جاوید اور شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کروائے تھے۔ طارق جاوید نجی بینک کے افسر جبکہ شاہد عزیز نیشنل انسویسٹمنٹ ٹرسٹ کے افسر ہیں۔

اس سے قبل 3 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم کے خلاف ان کی دائر کردہ درخواست مسترد کردی تھی۔ وزیر خزانہ نے احتساب عدالت کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔


وزیرخزانہ اسحاق ڈار پرفرد جرم عائد


واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 27 ستمبر کواحتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار پرفرد جرم عائد کی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top