The news is by your side.

Advertisement

ایون فیلڈ ریفرنس: نیب پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل مکمل

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر  نے کی۔

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے بعد عدالت سے روانہ ہوگئے جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے حتمی دلائل کا سلسلہ جاری رکھا۔

نیب پراسیکیوٹرنے سماعت کے آغاز پرکہا کہ کیلبری فونٹ2007 سے پہلےکمرشل استعمال کے لیے نہیں تھا، ریڈلے رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں جعلسازی پائی گئی۔

سردارمظفر نے کہا کہ ریکارڈ پرنہیں اخترریاض یا واجدضیاء کی نوازشریف سے دشمنی ہو، اخترریاض راجہ اور واجد ضیاء کی رشتہ داری ہونا مسئلہ نہیں ہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نوازشریف نے قوم سے خطاب کیا تھا جس میں کہا تھا کرپشن کے پیسے سے جائیداد بنانے والا اپنے نام پرنہیں رکھتا، ان کے قوم سے خطاب کو بطورثبوت پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماراکیس بھی یہی ہے نوازشریف نے بچوں کے نام جائیداد بنائی، پبلک آفس ہولڈرکرپشن سے جائیداد بناتا ہے تواپنے نام پرنہیں رکھتا۔

سردار مظفر نے کہا کہ نوازشریف کے لندن فلیٹس کے اصل مالک ہونے کے شواہد پیش کیے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ملزمان نے لندن فلیٹس تسلیم کیے ایک مؤقف بھی اپنایا، منی ٹریل سے متعلق ملزمان کا مؤقف درست ثابت نہیں ہوا، دستاویزی شواہد سے ملزمان کے مؤقف کوغلط ثابت کیا۔

انہوں نے کہا کہ استغاثہ نے ذمہ داری پوری کردی، اب بارثبوت ملزمان پرہے، کوئین بینچ لندن کا 1999 کا فیصلہ تسلیم شدہ ہے، التوفیق کیس میں پارک لین اپارٹمنٹس کواٹیچ کیا گیا۔

سردار مظفر نے کہا کہ التوفیق سیٹلمنٹ فریقین کی رضامندی سے طے پائی جبکہ کوئین بینچ کے فیصلے سے بھی ثابت ہے فلیٹس ملزمان کے تھے، کوئی اوراصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود تھی توعدالت میں پیش ہوتی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ دستاویزکودستاویزکے ذریعے مسترد کیا جاتا ہے، جب تک کوئی شواہد نہیں دیں گے ان کی بات نہیں سنی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ پر1999میں بھی ان کا قبضہ تھا، انہوں نے سیٹلمنٹ بھی ثابت نہیں کی ، میں نے اپنے دلائل دستاویزات کی بنیاد پردیے۔

سردار مظفر نے کہا کہ کرپشن کا ملبہ بیوی بچوں کے نام رکھا جاتا ہے، چوری کے پیسے سے بنی جائیداد کوئی اپنے نام نہیں رکھتا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ ریڈلے کے بیان پر بطور پراسیکیوشن موجودگی ضروری تھی۔ انہیں جب معلوم ہوا عدالتی حکم ہے تو اعتراض واپس لینا پڑا۔ فلیٹس آف شور کمپنیوں کے ذریعے بنائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ طارق شفیع کو استغاثہ نے شامل تفتیش ہونے کو کہا۔ ملزمان نے بھی طارق شفیع کو پیش نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے طارق شفیع کا مؤقف درست نہیں تھا۔ ثابت کرنا پڑتا اس لیے انہوں نے طارق شفیع کو پیش نہ کیا۔

سردار مظفر کے دلائل کے بعد احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت منگل تک جبکہ العزیزیہ اسٹیل ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

العزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں پیر کو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز کے وکیل امجد پرویز واجد ضیا پر جرح کریں گے۔ جرح مکمل ہونے پر نواز شریف 342 کے تحت بیان قلم بند کروائیں گے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث حتمی دلائل دیں گے۔

نواز شریف، مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نوازشریف کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر مسلسل دوسری سماعت پرغیرحاضر تھے۔

مسلم لیگ ن کے قائد اور ان کی بیٹی مریم نوازکی جانب سے گزشتہ روز حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے اس لیے 11 سے 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

نوازشریف اور مریم نواز کی جانب سے درخواست کے ساتھ کلثوم نوازکی نئی میڈیکل رپورٹ بھی منسلک کی گئی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر نے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر 11 جون کو بحث کرلی جائے، کیس حتمی مراحل میں ہے اور ملزمان کی جانب سے درخوست آگئی ہے۔

احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں