The news is by your side.

Advertisement

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث حتمی دلائل دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے چھٹے روز بھی دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز گزشتہ سماعت پر 3 روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ لے چکے ہیں۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث بہت زیادہ وقت لے رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں جلد حتمی دلائل مکمل کر لوں گا۔

سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ واجد ضیا کا بیان ہے لندن فلیٹس شریف خاندان کے ہیں۔ تفتیشی افسر کہتا ہے نواز شریف بے نامی دار اور اصل مالک ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ استغاثہ نے چارٹ پیش کرنے والے گواہ کو پیش نہیں کیا۔ جن شواہد کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ان پر جرح کا موقع ملنا چاہیئے۔ جے آئی ٹی نے نواز شریف سے مالک یا بینیفشل اونر کا نہیں پوچھا۔

انہوں نے کہا کہ خط اچانک نمودار ہوئے جے آئی ٹی نے تصدیق کے لیے بھیج دیے۔ ایسا کچھ ریکارڈ پر نہیں کہ جے آئی ٹی نے یہ خط کیسے حاصل کیے۔

خواجہ حارث نے فنانشل انویسٹی گیشن ایکٹ 2017 کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی وی آئی ایف آئی اے پر نہ مہر ہے اور نہ ہی دستخط، خط کے ساتھ رجسٹریشن شیئرز ہولڈر سرٹیفکیٹ تھے وہ کہاں ہیں۔

انہوں نے انویسٹی گیشن ایجنسی کے 3 ایکٹ 2017 کے خط پر بھی اعتراض کیا۔

خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ رابرٹ ریڈلے کہتا ہے کہ 2007 سے پہلے کیلی بری فونٹ نہیں تھا۔ فرق دیکھنے کے لیے رابرٹ ریڈلے کی خدمات کی ضرورت نہیں تھی، کومبر کے ساتھ نیلسن اور نیسکول کے 2 صفحے لگ گئے۔ پہلے صفحے پر غلطی ہوئی جس پر رپورٹ تیار ہوئی۔ احساس ہونے پر وکیل صاحب نے نیسکول اور نیلسن کی ٹرسٹ ڈیڈ لگائی۔

ایون فیلڈ ریفرنس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ خواجہ حارث کل بھی حتمی دلائل جاری رکھیں گے۔

گزشتہ سماعت پر خواجہ حارث نے کہا تھا کہ تفتیشی افسر کی رائے قابل قبول شہادت نہیں ہے، قطری کے 2 خطوط کا نواز شریف سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا، واجد ضیا یہ خط تو پیش کر سکتے تھے مگر کمنٹس نہیں کر سکتے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں