The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کےوکیل اورنیب پراسیکیوٹرکےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔

مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورکیپٹن ریٹائرڈ صفدراحتساب عدالت میں موجود تھے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث آج مسلسل آٹھویں سماعت پرجے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح کی جبکہ اس سے قبل استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے 6 سماعتوں پراپنا بیان قلمبند کرایا تھا۔

خواجہ حارث اورنیب پراسیکیوٹرکے درمیان تلخ کلامی

شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پرنیب پراسیکیوٹراورخواجہ حارث کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

نیب پراسیکیوٹر سردارمظفر نے کہا کہ ملازمت سے متعلق ملزم تسلیم کرچکا ہے، کیا آپ ملازمت کے دستاویز ماننے سے انکار کرتے ہیں، آپ کہیں کہ ملزم نے ملازمت نہیں کی۔

سردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث غیرضروری سوالات سے اجتناب کریں، نیب پراسیکیوٹرکی گفتگو پرنوازشریف کے وکیل خواجہ حارث خاموش ہوگئے۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ صرف ان دستاویزات کوظاہرکیا جو دستخط شدہ اورمہر بھی ثبت ہے،گورنیکا انٹرنیشنل کی فراہم دستاویزات کی کاپیاں اوردستاویزات موجود تھے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی ٹریڈنگ لائسنس کی متعدد کاپیاں فراہم کی گئیں، گورنیکا انٹرنیشنل کے فراہم ٹریڈنگ لائسنس کی ایک کاپی پرمہرموجود ہے۔

واجد ضیاء نے کہا کہ جےآئی ٹی کے والیم 6 میں سورس دستاویزات کی تفصیلات ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث ان ایڈمیسیبل دستاویزات پرجرح نہیں کرسکتے۔

نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ خواجہ صاحب سورس دستاویزات کی بات کررہے ہیں، نیب ان سورس دستاویزات پرانحصارہی نہیں کررہی، نوازشریف کیپیٹل ایف زیڈای میں ملازمت کا اعتراف کرچکے ہیں جبکہ جرح کوصرف متعلقہ حقائق تک محدود ہونا چاہیے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں نوازشریف کے اقامے کی 2 کاپیاں لگائی گئیں جبکہ اقامے کی ایک کاپی پرگورنیکا انٹرنیشنل کے دستخط موجود ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جرح میں 15مواقع پرخواجہ حارث نے سوالات کو دہرایا، واجد ضیاء نے بتایا کہ سیریل نمبر8 کے ساتھ منسلک دستاویزات کوپہلےعدالتی ریکارڈ کاحصہ بنالیں۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ دستاویزات کوعدالتی ریکارڈ کاحصہ بنانے کے بعدسوالات کرلیں، یہ کہنا مشکل ہوگا یہ تینوں دستاویزات سیریل نمبر8 کاحصہ ہیں۔

نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث جرح مکمل نہیں کرنا چاہتے،11دن گزرگئے ہیں۔

خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر میں دوبارہ تلخ کلامی

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث گواہ سے غیرضروری سوالات کرکے گواہ کو ہراساں کررہے ہیں، اگر وکیل صفائی کے پاس کوئی سوال نہیں تو جرح ختم کردیں۔

سردار مظفر نے کہا کہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث اپنے سوالات کے حوالے سےعدالت کو مطمئن کریں، انہوں نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادے کو عدالت میں لےکرکیوں نہیں آئے۔

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ اقامہ والی دستاویزات سیریل نمبر 8 کے بجائے 10 پرلگی ہے، ہم نے صرف متعلقہ سورس دستاویزات لگائے، تمام سورس دستاویزات لگا دیتے تو ایک نیا والیم بن جاتا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 11 روز میں بھی وکیل صفائی جرح مکمل نہ کرسکے، بغیرکسی اعتراض کے آپ اتنی لمبی جرح کررہے ہیں۔

سردار مظفر نے کہا کہ سورس دستاویزات عدالتی ریکارڈ پرنہیں لائی جاسکتی، ہم بھی ان دستاویزات پرانحصارنہیں کررہے، انہوں نے سوال کیا کہ جب دستاویزات ہیں ہی غیرمتعلقہ توان پرجرح کیوں؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویزات کوریکارڈ کاحصہ بنانے دیں پھرجرح کرلیں، قانون کے مطابق جس سوال کی بنیاد نہ ہو وہ نہیں پوچھا جاسکتا، انہوں نےغیرضروری جرح کی ممانعت سے متعلق فیصلےکا حوالہ دیا۔

سردار مظفر نے کہا کہ جوجرح کررہے ہیں عدلیہ نے اس طریقےکورد کررکھا ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق غلطی پر مجبورکرنے کے لیے جرح نہیں کی جاسکتی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ رحمان ملک کا بیان شریف خاندان کے خلاف جا سکتا تھا، جے آئی ٹی نے رحمان ملک کے بیان پرانحصارنہیں کیا، قانون شہادت بھی ایسی جرح کی اجازت نہیں دیتا۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے کہا کہ کہہ چکا اقامہ الراجی بینک کے ویزا کارڈ بحالی درخواست کے ساتھ تھا، سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جوسوال میں نے پوچھا وہ لکھیں پھرجومرضی فیصلہ کریں۔

بعدازاں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی ہوگئی۔

خیال رہے کہ 6 اپریل کو شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیرکی عدم موجودگی کے باعث ملتوی ہوگئی تھی

واجدضیاء نےکیپٹل ایف زیڈ ای سےنواز شریف کی تنخواہ وصولی کی تصدیق کردی

یاد رہے کہ 5 اپریل کو عدالت میں سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے نوازشریف کی طرف سے کیپٹل ایف زیڈ ای سے تنخواہ وصولی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنخواہ کا چارٹ تصدیق شدہ نہیں۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ جمع کرایاہے جس کے ساتھ یہ دستاویز منسلک ہیں جبکہ دستاویزات کی علیحدہ سے تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے آخری تنخواہ 11 اگست2013 کو وصول کی، وصول کی گئی تنخواہ جولائی کے مہینے کی تھی۔

واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جبل علی فری زون اتھارٹی سے کیپیٹل ایف زیڈ ای ملازمت کا ریکارڈ لیا، حاصل ریکارڈ میں ادائیگیوں کے سرٹیفکیٹ کا اسکرین شاٹ موجود ہے۔

استغاثہ کے گواہ کا کہنا تھا کہ تنخوا ہ کی ادائیگیاں کاؤنٹرکے ذریعے کی گئی، یہ دستاویزات نواز شریف سے متعلق ہیں، تنخواہ وصولی کا توآپ سپریم کورٹ میں مان چکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں