The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف پبلک آفس رکھتے ہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے‘ عمران ڈوگر

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز موسم کی خرابی کے باعث پیش نہ ہوسکے جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔


گواہ عمران ڈوگرکا بیان قلمبند

عدالت میں سماعت کے آغاز پرتفتیشی افسرگواہ عمران ڈوگر نے کہا کہ موسیٰ غنی اورطارق شفیع کو16اگست2017 کوسمن جاری کیے، 18اگست کونوازشریف، مریم اوردیگرکوسمن جاری کیے۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس میں لکھا عدم پیشی پرتصورکیا جائے گا کہ دفاع کے لیے کچھ نہیں ہے، سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے سمن کے متن کا حوالہ دینے پراعتراض کیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم یہ سمن عدالتی ریکارڈ پرلانے کا کہہ بھی نہیں رہے، وکیل صفائی کوضرورت ہے توسمن کی کاپی دیتے ہیں۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ طلبی کے باوجود ملزمان شامل تفتیش نہیں ہوئے، خواجہ حارث اورامجد پرویزکے خطوط 22 اگست کوملے جبکہ شواہد پر6 ستمبر2017 کوعبوری رپورٹ تیارکی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ 14دسمبر2017 کولندن میں موجود راجہ اخترکا بیان قلمبند کیا، تحقیقات سے ثابت ہوا نوازشریف لندن فلیٹس کے مالک تھے، نوازشریف پبلک آفس رکھتے ہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیلسن اورنیسکول کے ذریعے بے نامی دار کے نام پر فلیٹس خریدے، ملزمان لندن جائیداد خریدے جانے کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے، لندن فلیٹس1993سے نوازشریف، نامزد ملزمان کی تحویل میں ہیں۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ مریم نوازنے جن ٹرسٹ ڈیڈزکوجمع کرایا وہ جعلی ثابت ہوئیں، مریم، حسن اورحسین نوازبے نامی دارمیں شامل تھے۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ تینوں جرم کے ارتکاب میں نواز شریف کے مدد گاررہے، کرپٹ پریکٹسزنیب آرڈیننس 1999 کے تحت جرم ہے۔

گواہ نے عدالت کو بتایا کہ حتمی رپورٹ کے بعد ضمنی ریفرنس تیارکرنے کی منظوری دی گئی، نیب نے جےآئی ٹی کی شروع کردہ ایم ایل اے کی پیروی کی۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ بتایا گیا یوکے اتھارٹی سے ایم ایل اے کا جواب مل چکا ہے، 28 مارچ 2018 کوریکارڈ کی نقول میرے حوالے کی گئیں۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ ریکارڈ میں لینڈرجسٹری، یوٹیلٹی بلزاورٹیکس کی دستاویزات شامل تھیں، ریکارڈ درخواست کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف بطورپبلک آفس ہولڈرایون فیلڈ کے مالک پائے گئے، جائیداد نیلسن اورنیسکول کے ذریعے بےنامی دارکے نام پرلی گئی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ بیان تفتیشی افسرکی رائے ہے جوقابل تسلیم نہیں ہوسکتا، استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ ملزمان نے نیلسن، نیسکول، کومبرسے متعلق دستاویزات جمع کرائیں۔

عمران ڈوگر نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب کا اختیار ہے کس کو تفتیشی افسر تعینات کرنا ہے، چیئرمین نیب سیکشن 18 سی کے تحت تفتیشی افسر کو تعینات کرتا ہے۔ چیئرمین نیب تفتیشی افسر کی تعیناتی کی اتھارٹی کسی اور کو بھی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لندن فلیٹ ریفرنس میں یہ اختیار چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب لاہور کو دیا۔ پیرا 2 میں صرف یہ ہدایت ہے ریفرنس تیار کر کے دائر کیا جائے۔ ہدایات صرف میرے لیے تھی نہ کہ کسی دوسری تفتیشی ٹیم کے لیے۔ عبوری ریفرنس پر اس وقت کے چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے دستخط ہیں۔ تفتیش شروع کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا۔

گواہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے 6 ہفتے میں ریفرنس تیار کر کے دائر کرنے کی ہدایت کی۔ عدالتی حکم کے بعد ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کے لیے نئی تفتیش کی گئی۔

گواہ پر جرح کے بعد ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ خواجہ حارث کل بھی گواہ عمران ڈوگر پر جرح جاری رکھیں گے۔


 جے آئی ٹی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ پر نہیں لایا جا سکتا‘عدالت

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پراحتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی مکمل رپورٹ کوعدالتی ریکارڈ پرنہیں لایا جا سکتا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں