شریف خاندان کےخلاف نیب ریفرنسزکی سماعت16جنوری تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کےخلاف نیب ریفرنسزکی سماعت16جنوری تک ملتوی

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنا اہل وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ 21 اگست 2017 کو نیب راولپنڈی میں تفتیشی افسرکو نوازشریف، حسن اور حسین نوازکےخلاف ریکارڈ دیا اور بیان قلمبند کروایا۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ ریکارڈ العزیزیہ اور ہل میٹل سے متعلق ہے جس پر انہوں نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ العزیزیہ، ہل میٹل سے متعلق ریکارڈ ایس ای سی پی میں ہے؟ جس پر گواہ سدرہ منصور نے جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں ہے۔

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران 4 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ پانچوں گواہ بیمار ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوسکا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف 12 ویں، مریم نواز 14 ویں جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر 16 ویں مرتبہ آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔


عمران خان نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا ،نوازشریف


احتساب عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں ذاتیات پربات کرنے کے حق میں نہیں ہوں ، عمران خان نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا۔

اس سے قبل کمرہ عدالت میں مختصر گفتگو میں صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ17 تاریخ سے نئی تحریک کاسامنا کرنےکوتیارہیں؟ ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ساڑھے 4 سال سے تو انہی تحریکوں کا سامنا ہے، تحریکوں کا سامنا کرنا تو اب معمول سی بات ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت میں شریف فیملی کےخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت استغاثہ کے 2گواہوں کے بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں