منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

6 سالہ ولی کو زیادتی کے بعد کیسے قتل کیا؟ ملزم حمزہ کے دہل دہلا دینے والے انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : ملزم حمزہ نے‌ 6 سالہ ولی‌ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے حوالے سے دہل دہلا دینے والے انکشافات کئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لی مارکیٹ سے 6 سالہ بچے کی بوری بند اور تشدد زدہ لاش ملنے کے ہولناک واقعے میں ملوث ملزم حمزہ نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات کیے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم انتہائی شاطر ہے جو مسلسل اپنے بیانات بدل کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم تفتیش کا گھیرا تنگ ہونے پر اس نے سب اگل دیا۔

ملزم حمزہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں واردات کی لرزہ خیز تفصیلات بتاتے ہوئے کہا "ننھا ولی مجھ سے بہت مانوس تھا اور اکثر میرے پاس آتا تھا، اس دن بھی جب ولی میرے پاس آیا تو مجھ پر شیطان سوار ہو گیا۔”

ملزم کا کہنا تھا کہ "میں نے ولی کو کمرے میں بند کر دیا اور جب اس کے ساتھ زبردستی کی تو وہ چلانے لگا تو میں نے اس کا شور دبانے کے لیے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور میں نے جب زور سے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا تو بچہ بے ہوش ہو گیا۔

حمزہ نے مزید بتایا کہ میں بچے کو اسی حالت میں چھوڑ کر باہر چلا گیا، کچھ دیر بعد چکر لگا کر واپس آیا تو ولی اب بھی بے ہوش ہی پڑا تھا، "گھر میں اس وقت صرف دادی تھیں جو علالت کی وجہ سے ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی ہیں، جبکہ چاچی کی بیٹی بیمار ہونے کے باعث وہ رات سے ہی اس کے ساتھ اسپتال میں تھیں۔

میں نے نہا کر کپڑے تبدیل کیے اور ولی کی لاش کو ایک بڑے شاپر میں ڈال کر الماری کے اندر چھپا دیا، جب علاقے میں پولیس کا گھیراؤ تنگ ہونے لگا تو خوفزدہ ہو کر لاش کو اوپر سے نیچے پھینک دیا، جو بعد میں بوری بند حالت میں برآمد ہوئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے اعترافِ جرم اور تمام شواہد اکٹھے کرنے کے بعد قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ گرفتار ملزم حمزہ کو مزید جسمانی ریمانڈ کے حصول اور سخت قانونی سزا کے لیے آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں