کراچی: پولیس اہل کاروں کے سامنے مدعی کے ہاتھوں نامزد ملزم قتل -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: پولیس اہل کاروں کے سامنے مدعی کے ہاتھوں نامزد ملزم قتل

کراچی: شہرِ قائد کے علاقے نیو ٹاؤن میں پولیس اہل کاروں کے سامنے مدعی نے گولیاں مار کر نامزد ملزم کو قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس اہل کاروں کی شدید غفلت کے باعث کراچی میں ایک اور شخص کی جان چلی گئی، نیوٹاؤن میں سہیل نامی مدعی نے نامزد ملزم منور پر پولیس اہل کاروں کی موجودگی میں گولیاں مار دیں۔

ایڈیشنل ایس ایچ او درخشاں سمیت 4 اہل کاروں کو نیوٹاؤن پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ایڈیشنل ایس ایچ او درخشاں سمیت 4 اہل کاروں کو نیوٹاؤن پولیس نے حراست میں لے لیا۔ قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی۔

ترجمان ڈی آئی جی ایسٹ زون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سہیل کو موقع پر ہی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، ملزم سہیل درخشاں تھانے کی پولیس کے ہمراہ آیا تھا۔

پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ملزم سہیل کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا، درخشاں پولیس کے خلاف مجرمانہ غفلت کا مقدمہ بھی درج ہوگا۔

قبل ازیں کراچی کے علاقے نیو ٹاؤن، شرف آباد میں پولیس موبائل میں بیٹھ کر عدالتی حکم پر ملزم کی نشان دہی کے لیے آنے والے مدعی سہیل نے تین اہل کاروں کے سامنے ملزم منور کو چار گولیاں مار کر قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایم کیو ایم کا وزیراعظم سے کراچی کی بگڑتی صورتحال پر نوٹس لینے کا مطالبہ

ملزم منور کے بھائی نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منور پولیس کی غفلت کے باعث جان سے گیا ہے، میں پولیس سے بار بار کہہ رہا تھا کہ منور کو اٹھا کر اسپتال لے چلیں لیکن وہ اپنی دوستیاں بڑھانے میں لگے تھے اور اسپتال لے جانے کی بجائے منور کو تھانے لے کر گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل نے درخشاں تھانے میں بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں مقتول منور سمیت متعدد افراد نامزد کیے گئے تھے، تاہم بیٹیوں نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ والد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں، وہ اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی تھیں، عدالت نے بھی ملزم سہیل کے مقدمے کو غلط قرار دے دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں