site
stats
اہم ترین

کے پی کے پختونوں کا صوبہ ہے، پرویز خٹک

پشاور : وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 1947 میں خیبرپختونخوا کے غیورعوام نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا  ہے، محمود خان اچکزئی کا بیان قابل مذمت ہے اور اس کو مسترد کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز افغان میڈیا کو دئیے گیے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جس کو افغانستان جانا ہے وہ چلا جائے ، محمود خان اچکزئی خیبرپختونخوا کے بغیر پاکستان کو مکمل کرتے ہیں۔

افغان مہاجرین کے مدتِ قیام میں توسیع کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اجلاس منعقد کیا، جس میں افغان مہاجرین کو وفاق کی جانب سے توسیع دینے کی سخت مخالفت کی گئی۔

اس موقع پر صوبائی وزیرمشتاق غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’خیبرپختونخوا حکومت 24 لاکھ سے زائد افغانیوں کا بوجھ برداشت کررہی ہے، جن میں 12 لاکھ رجسٹرڈ ہیں اور اتنے ہی غیررجسٹرڈ مہاجرین ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’وفاق کو اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے توسیع کے فیصلے پرضرورنظر ثانی کرنا چاہیے، اس طرح سے بار بار توسیع دینا درست نہیں بلکہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے رجسٹرڈ اورغیر رجسٹرڈ مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

مشتاق غنی نے کہا کہ ’’ اگر وفاق توسیع دینے کے فیصلے پر بضد ہے تو خیبرپختونخوا میں موجود افغانیوں کی تعداد کو دیگر صوبوں برابری کی سطح پر بھیجنے کے احکامات جاری کرے، صوبائی حکومت تن تنہاء افغانیوں کے اخراجات برداشت نہیں کرے گی‘‘۔

قبل ازیں سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے امریکی سفیر سے ملاقات کی جس میں سیکریٹری داخلہ، اعلی پولیس حکام نے بھی شرکت کی، اس ملاقات میں وفاق کی جانب سے افغانیوں کو دی گئی وفاقی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے غیر قانونی  رہائشی افغان مہاجرین کی گرفتاریوں کے حوالے سے  فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے گزشتہ روز پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے افغان میڈیا کو دیے گیے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اگر افغان مہاجرین کو پاکستان کے دیگر صوبوں کو ہراساں کیا جاتا ہے تو انہیں خیبرپختونخوا آجا نا چاہیے، یہاں اُن سے کوئی مہاجر کارڈ نہیں مانگے گا کیونکہ یہ انہی کا صوبہ ہے‘‘۔

محمود اچکزئی نے مزید کہا تھا کہ ’’خیبرپختونخوا آنے والے مہاجرین پورے صوبے میں جس جگہ چاہیں سکون سے رہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک طورخم بارڈر کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے تو اُس کو امریکا یا چین کے حوالے کردیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top