لاہور : بد قسمتی سے وطن عزیز میں آج تک تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام نہیں ہوسکی حکمرانوں کی جانب سے تمام تر دعوؤں کے باوجود یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
شاید کسی کو جان سے مار دینے کے بجائے اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس پر تیزاب پھینک دیا جائے اور وہ ساری زندگی اس اذیت میں گزارے۔
اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رشتہ مسترد ہونے یا شادی ختم ہونے، خاندانی اور ذاتی چپقلش کے سبب ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔
ایک ایسی ہی کہانی پنجاب کی تحصیل سمندری کی رہائشی 19 سالہ ایشا کنول کی ہے جس کے چہرے پر اس کے شوہر نے تیزاب انڈیل دیا، اے آر وائی نیوزکے پروگرام سرعام کی ٹیم اس لڑکی کا حال معلوم کرنے اس کے گھر پہنچی تو وہ منظر دیکھ کر دل دہل گئے۔
ایشا کی والدہ نے اپنی بیٹی پر ہونے والے ظلم کی سنائی والدہ کے مطابق شادی کے بعد اس کا شوہر کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا اور چھوٹی چھوٹی بات پر اعتراض اور شک کرتا تھا اور تشدد کرتا تھا۔
اس کے مظالم سے تنگ آکر میری بیٹی گھر واپس آگئی وہ اس کے ساتھ نہیں واپس نہیں جانا چاہتی تھی اس نے طلاق کا مطالبہ کردیا، جس پر ایک دن صبح صبح اس نے موقع پاتے ہی اس کے چہرے پر تیزاب کی بوتل ڈال دی اور گھر سے فرار ہوگیا۔
ایشا کی چیخیں سن کر جب میں کمرے سے باہر آئی تو جیسے میری جان ہی نکل گئی میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کی کھال پوری جل کر لٹک رہی تھی اور اس کی آنکھیں بھی خراب ہوگئی تھیں۔
اس موقع پر ایشا کنول نے ٹیم سرعام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اب زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں ہے میں نے امی سے کہا ہوا ہے کہ مجھے زہر کا انجکشن لگوا دو میں اس طرح نہیں رہنا چاہتی۔
اس نے بتایا کہ جو میری سہیلیاں تھیں اب وہ سب چھوڑ کر چلی گئیں کہ مجھے دیکھ کر ان کو مجھ سے گھن آتی ہے۔
ایشا کی والدہ نے بتایا کہ اس پر تیزاب پھینکنے والے کمالے کو پولیس نے گرفتار تو کیا لیکن ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہمیں ڈر ہے کہ وہ کہیں دوبارہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


