The news is by your side.

Advertisement

قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزم کی بریت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزم کی بریت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔

تفصیلات کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزم کی بریت کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کردی گئی ، سپریم کورٹ میں درخواست عثمان خالد بٹ نامی شہری نے دائر کی۔

درخواست آئین کے آرٹیکل 184تھری کے تحت دائر کی گئی ہے اور درخواست میں پنجاب حکومت کو بذریعہ پراسیکیوٹر جنرل فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، یہ فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ قندیل بلوچ کے قاتل کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

یاد رہے 14 فروری کو لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں مرکزی ملزم کی والدہ نے عدالت میں راضی نامہ جمع کرایا تھا، جس پر لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم بھائی وسیم کو بری کردیا تھا۔

بعد ازاں 19 فروری کو ماڈل قندیل بلوچ کیس کے مرکزی ملزم اور ان کے بھائی وسیم کو جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے گزشتہ سال 27 ستمبر کو ملتان کی عدالت نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مفتی عبدالقوی سمیت چار ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں والد عظیم بلوچ نے اپنے دونوں سگے بیٹوں مرکزی ملزمان وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر کے عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرایا تھا لیکن عدالت نے والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کیس کا فیصلہ گواہوں کی شہادتوں کے بعد کیا جائے گا۔

معروف ماڈل قندیل بلوچ کو ملتان میں واقع ان کے گھر میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا تھا۔ قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئیں تھیں کہ رات سوتے ہوئے اُن کے بھائی وسیم نے گلا دبا کر ماڈل کو ہلاک کرکے گاؤں سے فرار ہو گیا جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں