The news is by your side.

Advertisement

ورسٹائل اداکار ادیب کی برسی

برطانوی دورِ حکومت میں ریاست جموں و کشمیر میں آباد مظفر علی کا خاندان معاش کی غرض سے ممبئی منتقل ہو گیا تھا یہ تقسیمِ ہند سے قبل کی بات ہے جہاں مظفر علی نے تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے لکھنے لکھانے کا آغاز کیا وہ اسکرپٹ رائٹر کے طور پر تھیٹر اور بعد میں فلم نگری تک پہنچے اور بڑے پردے پر اداکاری کی۔

تقسیمِ ہند کے بعد 1962 میں مظفر علی پاکستان چلے آئے اور یہاں فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے اداکار کے طور پر شائقین کی توجہ حاصل کی اور اس نگری میں ادیب کے نام سے پہچانے گئے۔ پاکستان میں ان کی پہلی فلم ’دال میں کالا‘ تھی۔ ادیب کو ’عادل‘ نامی فلم نے حقیقی معنوں میں شہرت دی اور اس فلم کی کام یابی کے ساتھ ہی ان کی مصروفیات میں بے حد اضافہ ہوگیا، وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے مصروف اداکار تھے جسے زیادہ تر منفی کردار نبھانے کو ملے اور وہ ایک عرصہ تک بطور ولن پردہ سیمیں پر راج کرتے رہے۔

26 مئی 2006ء کو اداکار ادیب ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ انھیں گردوں اور دل کا عارضہ لاحق تھا۔

اداکار ادیب کی فنی زندگی کا آغاز اسکرپٹ رائٹنگ سے ہوا تھا جب کہ فلم ’پاک دامن‘ میں ولن کے ایک کردار سے بڑے پردے پر ان کا نیا سفر شروع ہوا تھا۔ پاکستان کے اس مشہور اداکار نے 4 اکتوبر 1928ء کو دنیا میں آنکھ کھولی۔ ان کی فن کارانہ زندگی کا آغاز ایک تھیٹر کمپنی سے بطور مصنّف ہوا تھا، بعد میں انڈین نیشنل تھیٹر میں کام کیا اور ممبئی میں رہتے ہوئے دس فلموں میں‌ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے یہاں کئی فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ادیب کی زندگی کی آخری فلم ’مجاجن‘ تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں