جمعرات, اپریل 16, 2026
اشتہار

اعجاز درانی:‌ مقبول اداکار اور کام یاب فلم ساز

اشتہار

حیرت انگیز

قیامِ پاکستان کے بعد کئی باکمال اور باصلاحیت فن کاروں کی بدولت پاکستانی فلم انڈسٹری کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور اپنی محنت اور لگن سے انڈسٹری کو کئی بے مثال اور یادگار فلمیں دیں اعجاز درانی انہی میں سے ایک تھے جو اداکار ہی نہیں ایک بہترین فلم ساز بھی تھے کہا جاتا ہے کہ اعجاز درانی کبھی شہرت اور دولت کے پیچھے نہیں بھاگے بلکہ ہمیشہ اپنے کام کو اہمیت دی۔ 2021ء میں آج ہی کے روز اعجاز درانی انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔

اعجاز درانی فلم انڈسٹری میں خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ انھوں نے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں سے شادی کی تھی مگر یہ تعلق برقرار نہیں رہ سکا تھا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں اعجاز درانی ایک معروف فلمی اداکار تھے اور پھر انھیں بطور فلم ساز بھی کام یاب دیکھا گیا۔ اعجاز درانی نے ڈیڑھ سو کے قریب اردو اور پنجابی فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کے علاوہ ہدایت کار کی حیثیت سے بھی خوب کام کیا۔ پنجابی زبان کی سپر ہٹ فلم ‘ہیر رانجھا’ اس کی ایک مثال ہے۔

اعجاز درانی 18 اپریل 1935 کو جلال پور جٹاں کے قریب ایک ضلع کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے جہلم سے بی اے پاس کیا اور لاہور آ گئے جو برطانوی دور میں بھی فلم سازی کا ایک مرکز تھا۔ یہاں 21 سالہ اعجاز نے فلم ‘حمیدہ’ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اعجاز درانی وجیہ صورت اور جاذبِ نظر شخصیت کے مالک تھے۔ جلد ہی وہ فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بن گئے اور ان کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگی۔ 1960ء کی دہائی میں ان کی کئی فلمیں کام یاب ہوئیں جن میں ‘شہید’، ‘بدنام’، ‘لاکھوں میں ایک’، ‘بہن بھائی’ اور ‘زرقا’ شامل ہیں۔ اسی زمانہ میں اعجاز درانی نے نور جہاں سے شادی کی تھی۔

70 کی دہائی میں اعجاز درانی کو فلمی دنیا میں کام یابیاں ملتی رہیں۔ پنجابی فلم ‘انورہ’ اور پھر ‘ہیر رانجھا’ نے انھیں شہرت کی بلندیوں‌ پر پہنچا دیا۔ اعجاز اس فلم رانجھا بنے تھے اور ان کی ہیروئن اداکارہ فردوس تھیں۔ دونوں کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ اعجاز اس فلم کے پروڈیوسر بھی تھے۔ ہیر رانجھا کے بعد اعجاز کی ایک کام یاب فلم ‘دوستی’ تھی جس کا گانا ‘چٹھی زرا سیاں جی کے نام لکھ دے’ آج بھی سماعتوں‌ میں‌ رس گھول رہا ہے۔ اعجاز نے دوسری شادی فلم ‘دوستی’ کے ہدایت کار کی بیٹی سے کی تھی۔

اعجاز درانی لاہور اور راولپنڈی میں سنگیت سنیما کے مالک بھی تھے۔ انھوں نے بطور فلم ساز پنجابی فلم ‘شعلے’ اور ‘مولا بخش’ بھی فلمی صنعت کو دیں جو باکس آفس پر نہایت کام یاب رہیں۔ بطور اداکار ان کی آخری فلم ‘جھومر چور’ تھی جو 1986ء میں ریلیز ہوئی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں