The news is by your side.

Advertisement

معروف اداکار رنگیلا کو گزرے 14 برس بیت گئے

آج پاکستانی فلم انڈسٹری کے دورِ عروج کے لازوال کردارسعید خان المعروف ’’رنگیلا‘‘ کی14 ویں برسی ہے، ان کی یادگار اداکاری کے نقش آج بھی دلوں میں موجود ہیں۔

رنگیلا کی شخصیت اپنے اندرکئی پہلوسموئے ہوئے تھی وہ ایک عظیم اداکار، گلوکار، ہدایت کاراور مصنف تھے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری پر ایسے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

ذاتی زندگی

رنگیلا کا اصل نام محمد سعید خان تھا۔ وہ یکم جنوری 1937ء کوضلع ننگرہار، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ انہیں نوعمری سے ہی جسمانی ورزش کا بہت شوق تھا۔اس شوق کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ اداکار نہ ہوتے تو شاید باڈی بلڈر ہوتے۔

ذریعہ معاش کی خاطر انہوں نے مصوری سیکھی اورایک پینٹر کی حیثیت سے رزق کمانے کے لئے پہلے پشاور ہجرت کی لیکن یہاں زیادہ کامیابی ہاتھ نہ آتے دیکھ کر بالاخرلاہورکا رخ کیا جہاں قسمت نے ان کے ساتھ یاوری کی اور وہ پینٹر کی حیثیت سے فلمی سائن بورڈ تیار کرنے لگے۔

فنی زندگی

فلمی بورڈ بنانے کے ذوق و شوق نے جب جنون کی کیفیت اختیار کی تو رنگیلا نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھانی۔ یہ دور تھا 1958ء کا۔ اس سال رنگیلا نے بطور اداکار پنجابی فلم “جٹی” سے اداکاری کا آغاز کیا۔ یہ فلم ایم جے رانا نے ڈائریکٹ کی تھی فلم کا ریلیز ہونا تھا کہ ان کے پرستار بنتے چلے گئے اور فلم دیکھنے والوں کا سینما ہالوں پر رش لگ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلم “جٹی” راتو ں رات ہٹ ہوگئی۔

اداکار کی حیثیت سے خود کو منوانے کے بعد رنگیلا نے ہدایت کاری کے شعبے میں قدم رکھا اور پہلی فلم ’’دیا اور طوفان‘‘ کی ہدایت کاری کی کی۔ اس فلم نے بھی رنگیلا کی شہرت کو چار چاند لگائے۔ اس کے بعد انہوں نے بطور فلمساز بھی قسمت آزائی کا فیصلہ کیا اور’’رنگیلا پروڈکشنز‘‘ کے بینرتلے فلمسازی شروع کردی۔ انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیں جنہیں بہت پسند کیا گیا۔

گیارہ ستمبر 1970ء کو ان کی فلم ’’رنگیلا ‘‘ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے مرکزی کردارادا کیا تھا۔ یکم اکتوبر 1971ء کوان کی ایک اور کامیاب ترین فلم ’’دل اوردنیا‘‘ ریلیز ہوئی جس میں رنگیلا کے علاوہ حبیب اورآسیہ بھی ساتھی اداکاروں کے طور پر جلوہ گر ہوئے تھے۔

ایوارڈز اوراعزازات

رنگیلا نے دل اور دنیا، میری زندگی ہے نغمہ، رنگیلا، نوکر تے مالک، سونا چاندی، مس کولمبو، باغی قیدی اور فلم تین یکے تین چھکے جیسی کامیاب فلموں کے لئے بہترین اسکرین پلے رائٹر، بہترین کامیڈین، بہترین مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے انیس سو ستر، اکہتر، بہتر، بیاسی، تراسی، چوراسی، چھیاسی اور انیس سو اکیانوے میں 9مرتبہ نگار ایوارڈ زحاصل کئے جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔

رنگیلا کو 2004 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی بھی دیا گیا۔

بیماری اور انتقال

رنگیلا کو گردوں، جگراورپھیپھڑوں کا عارضہ لاحق تھاجس کے علاج کے لئے انہیں کئی کئی مہینے اسپتال میں گزارنے پڑے۔ آخر کاروہ انہی امراض کے ہاتھوں آج ہی کے دن یعنی 24 مئی 2005ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی آٹھ بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں