بدھ, مارچ 11, 2026
اشتہار

سلیم ناصر: ٹی وی ڈراموں کے مقبول اداکار کی برسی

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان ٹیلی وژن کے جن فن کاروں کی شان دار اداکاری نے ڈراموں کو مقبولیت کی نئی بلندیوں پر پہچایا اور وہ پی ٹی وی کی پہچان بنے، ان میں سلیم ناصر بھی شامل ہیں۔ ان کا نام اپنے دور میں‌ ہر گھر میں سنائی دیتا تھا اور ہر عمر کے لوگوں‌ میں سلیم ناصر اپنی منفرد اداکاری کی وجہ سے پسند کیے جاتے تھے۔

وہ پی‌ ٹی وی کے ابتدائی دور کے ان فن کاروں میں‌ ایک تھے جنھوں نے معیاری اداکاری سے ناظرین کے دل ہی نہیں‌ جیتے بلکہ عزّت اور احترام بھی پایا۔ 70ء اور 80ء کی دہائی میں ان کے کئی ڈرامے یادگار ثابت ہوئے اور بے مثال اداکاری کے سبب سلیم ناصر کو بہت سراہا گیا۔

سلیم ناصر نے پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور ڈرامہ ‘آنگن ٹیڑھا’ میں ‘اکبر’ کا کردار ادا کر کے ناظرین کے دل جیت لیے اور انھیں وطنِ عزیز کے کونے کونے میں موجود ان کے مداحوں نے بہت پیار اور عزّت دی۔ آج اداکار سلیم ناصر کی برسی ہے۔ وہ 19 اکتوبر 1989ء کو انتقال کر گئے تھے۔

سلیم ناصر متحدہ ہندوستان کے شہر ناگپور میں 15 نومبر 1944ء کو پیدا ہوئے تھے۔قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔ یہیں سلیم ناصر نے تعلیم پائی اور عملی زندگی میں قدم رکھا۔ اداکار سلیم ناصر کی فنی زندگی کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے لاہور مرکز کے ڈرامے ’’لیمپ پوسٹ‘‘ سے ہوا تھا۔ کراچی میں انھوں نے چھوٹی اسکرین پر مختلف ڈراموں میں کردار نبھائے اور اپنے بیک وقت سنجیدہ اور مزاحیہ کردار نبھا کر ناظرین کے دل جیتے۔ سلیم ناصر کے مقبول ڈراموں میں دستک، نشانِ حیدر، آخری چٹان، یانصیب کلینک، بندش اور ان کہی شامل ہیں‌ جب کہ معروف مزاح نگار اور اسکرپٹ رائٹر انور مقصود کا تحریر کردہ آنگن ٹیڑھا وہ ڈرامہ تھا جس میں سلیم ناصر ایک ایسے نوکر کے روپ میں سامنے آئے جس کے لب و لہجے اور بدن بولی سے نسوانیت جھلکتی تھی۔ اس روپ میں وہ اپنے معصومانہ انداز میں ادا کیے گئے مزاحیہ مکالموں کی وجہ سے ناظرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ بلاشبہ سلیم ناصر نے اس کردار کو اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے امر کردیا۔ ‘دستک‘‘ ڈرامہ میں انھوں نے وکیل کا کردار ادا کیا، جو بہت پسند کیا گیا۔ ڈرامہ ”نشان حیدر‘‘ میں انھوں نے کیپٹن سرور شہید کا یادگار کردار ادا کیا اور ”آخری چٹان‘‘ میں سلطان جلال الدین کا کردار ادا کیا اور اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا ایک اور یادگار ڈرامہ ”یانصیب کلینک‘‘ تھا۔ اس میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے نہایت معیاری اور کہانیاں سبق آموز ہوا کرتی تھیں۔ ان کے ذریعے سماج اور لوگوں کو تفریح کے ساتھ کوئی مثبت پیغام دیا جاتا تھا۔ اداکاری کے علاوہ اسکرپٹ سے لے کر پروڈکشن تک ہر طرح معیار کو ترجیح دی جاتی تھی۔

اداکار سلیم ناصر کو مکالموں کی ادائیگی پر عبور حاصل تھا۔ ان کی آواز بھی بہت منفرد تھی اور یہی وجہ ہے کہ ڈرامہ ‘‘آخری چٹان‘‘ میں ان کے مکالمے بولنے کا انداز سب کو بہت بھایا۔ انھیں فلموں میں بھی کام کرنے کا موقع ملا اور ’’زیب النساء‘‘ (1976) کی وہ فلم تھی جس میں سلیم ناصر نے اپنا کردار بہت خوبصورتی سے نبھایا تھا۔ اس فلم میں وحید مراد اور شمیم آرا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

سلیم ناصر کو 24 ستمبر 1989ء کو دل کا دورہ پڑا تھا اور پھر وفات کے روز بھی دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی تھی جس پر انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں‌ وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اداکار کو ان کی فنی خدمات پر بعد از مرگ تمغائے حسن کارکردگی دیا گیا۔ انھیں حسنِ کارکردگی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

سلیم ناصر کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں