The news is by your side.

Advertisement

سنجے دت اپنی بیوی اور بچوں‌ کے لیے فکرمند

بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت کا کہنا ہے کہ جب کینسر میں مبتلا ہوا تو دو سے تین گھنٹے تک روتا رہا کیونکہ مجھے بیوی اور بچوں کی فکر ستا رہی تھی۔

بھارتی اداکار سنجے دت نے یوٹیوبر رنویر الہبادیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کینسر کی جنگ جیتنے کے سفر کی کہانی بیان کی اور بتایا کہ وہ کیوں افسردہ ہوگئے تھے۔

سنجے دت کا کہنا تھا کہ وہ دن یاد ہے جب لاک ڈاؤن کے دوران انہیں اپنے پھیپھڑوں کے کینسر میں بارے میں پتا چلا۔

اداکار نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں لگتا تھا کہ انھیں تپ دق (ٹی بی) ہے جب انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، سنجے نے مزید کہا کہ جب تمام ٹیسٹ ہوچکے تھے اور ڈاکٹروں کو اس کے کینسر کا یقین تھا تو بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کون اسے خبر بریک کرے گا کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ ‘کسی کا چہرہ’ توڑ دے گا۔

میری بہن میرے پاس آئی خیریت دریافت کی، ‘ٹھیک ہے مجھے کینسر ہو گیا ہے لیکن میں دو تین گھنٹے تک روتا رہا کیونکہ میں اپنے بچوں اور اپنی زندگی اور اپنی بیوی اور ہر چیز کے بارے میں سوچ رہا تھا میں نے کہا میں کمزور ہونا چھوڑ دوں گا۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بال جھڑ جائیں گے اور دوسری چیزیں ہوں گی مجھے قے ہو جائے گی، تو میں نے ڈاکٹر سے کہا مجھے کچھ نہیں ہوگا’، میں بال نہیں جھڑوں گا، مجھے قے نہیں ہوگی، میں نہیں گروں گا۔ بستر پر لیٹ گئی اور وہ مسکرائی۔

اداکار نے بتایا کہ میں نے اپنی کیموتھراپی کروائی اور میں واپس آیا اور میں اس موٹر سائیکل پر ایک گھنٹہ بیٹھا اور میں نے سائیکل چلائی، میں نے وہ دن بہ دن ہر روز کیا۔ ہر کیمو (سیشن) کے بعد میں نے ایسا کیا یہ پاگل تھا میں دبئی میں کیمو کے لیے جاتا تھا اور پھر میں بیڈمنٹن کورٹ جاتا تھا اور دو تین گھنٹے کھیلتا تھا۔

سنجے دت نے بتایا کہ مجھے جم جاتے ہوئے دو مہینے ہو گئے ہیں میرا وزن اچھا ہو گیا ہے، میں دوبارہ جم جوائن کروں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ سنجے دت،میں وہی سنجے دت بننا چاہتا ہوں اور بن کر رہوں گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں