کراچی : پاکستان فلم انڈسٹری کے ماضی کے معروف اداکار شاہد جن کا اصل نام شاہد حمید ہے نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق اہم راز سے پردہ اٹھا دیا۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان سحور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی پہلی شادی سے متعلق تفصیل سے بتایا۔
ایک سوال کے جواب میں اداکار شاہد نے کہا کہ جب میری کوئی بھی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی تو اس دوران والد نے اپنے دوست کی بیٹی سے میرا رشتہ مانگا تھا تاہم اداکاری کے شعبے میں دلچسپی کی وجہ سے میرے رشتے کی بات آگے بڑھ نہیں پا رہی تھی، حالانکہ میں اس لڑکی کو پہلے سے پسند بھی کرتا تھا۔
بعد ازاں میری بہنوں نے بہت تگ و دو کے بعد میرا نکاح کروا دیا، ان کا کہنا تھا کہ نکاح کے وقت میری پہلی فلم کی شوٹنگ مکمل تو ہوگئی تھی لیکن ریلیز نہیں ہوئی تھی۔ پھر دو کامیاب فلموں کے ریلیز ہونے کے بعد رخصتی ہوئی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب والد کو میری فلموں میں بارے میں کسی نے مخبری کی تو گھر پہنچنے پرمیری بہت پٹائی کی اور گھر سے بھی نکال دیا تھا اور تقریباً تین سال بعد جب میں سپر اسٹار بن گیا تو بہت کوشش کے بعد پھر کہیں جا کر ان سے صلح ہوئی۔
ایک رپورٹ کے مطابق اداکار شاہد نے دوسری شادی معروف اور حسین اداکارہ بابرہ شریف سے کی تھی جو 1977 میں ہوئی۔
شاہد اور بابرہ شریف کی شادی فلمی حلقوں میں کافی مشہور ہوئی تاہم، یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور صرف ایک سال بعد طلاق پر ختم ہوگئی. یہ جوڑا پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور اداکاروں میں شمار ہوتا تھا۔
یاد رہے کہ اداکار شاہد 24 جولائی 1950 کو لاہور میں پیدا ہوئے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور 1970 میں عباس نوشے نے اپنی فلم ایک رات میں شاہد کو پہلی بار کاسٹ کیا جس کی ہیروئن دیبا تھیں۔
اس کے فوری بعد ہدایت کار ایس اے بخاری نے انہیں اپنی فلم آنسو میں بطور ولن لیا جس میں مرکزی کردار ندیم اور فردوس کر رہے تھے۔ دونوں فلمیں کامیاب ثابت ہوئیں اور شاہد کے لیے بھی کامیابی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
اداکار شاہد کو ان کی فنکارانہ صلاحتیوں کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا، سید نور کی فلم ‘محافظ پر انہیں گریجویٹ ایوارڈ دیا گیا اس کے علاوہ کینیڈا سے بھی ایوارڈ حاصل کرنے کا انہیں اعزاز حاصل ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



