منگل, فروری 10, 2026
اشتہار

پاکستانی فلموں کے کمال کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

سیّد کمال کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے بہترین اور فلم بینوں‌ میں‌ مقبول اداکار کے ساتھ بطور فلم ساز اور ہدایت کار بھی یاد رکھے گی۔ یکم اکتوبر 2009ء میں اداکار کمال اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ کمال نے فلم کے علاوہ ٹیلی ویژن ڈراموں میں اداکاری بھی کی اور بطور میزبان ان کا ایک اسٹیج شو بھی مشہور ہوا تھا۔

سید کمال کا تعلق متحدہ ہندوستان کے شہر میرٹھ سے تھا۔ وہ 27 اپریل 1937 کو پیدا ہوئے۔ ان کا نام سیّد کمال شاہ رکھا گیا۔ کمال کو قیام پاکستان سے قبل ممبئی میں بننے والی فلم ’’باغی سردار‘‘ میں مختصر کردار نبھانے کا موقع ملا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے تو یہاں بھی فلم انڈسٹری میں کام تلاش کرنے کی کوشش کی اور ہدایت کار شباب کیرانوی نے انھیں اپنی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ میں بطور ہیرو موقع دیا۔ یوں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں بطور اداکار ان کا سفر شروع ہوا اور بعد میں‌ انھوں نے فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی نویس کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں‌ کا اظہار کیا۔ کمال نے سنجیدہ اور مزاحیہ ہر قسم کے کردار نبھائے، اور فلم بینوں نے ان کی کامیڈی کو بہت پسند کیا۔

انھیں پاکستانی فلموں کے ساٹھ اور ستّر کے عشرے کا کام یاب اداکار کہا جاتا ہے جن کی کئی مشہور اور کام یاب فلمیں یادگار ثابت ہوئیں۔ اداکار کمال کی شکل بھارتی اداکار راج کپور سے کافی مشابہ تھی، اسی لیے ان کو پاکستان کا راج کپور بھی کہا جاتا تھا۔ پرلطف بات یہ ہے کہ اداکار راج کپور سے کمال کی بے تکلفی بھی تھی اور ان کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ ایک قصہ انڈسٹری میں مشہور ہے کہ کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے راج کپور بھارت کے ایک شہر کے ہوٹل میں‌ ٹھیرے ہوئے تھے، وہ اپنے وقت کے مقبول انڈین ہیرو تھے۔ راج کپور کے مداحوں کو ہوٹل میں‌ ان کی موجودگی کا کسی طرح علم ہوگیا تو وہاں‌ ایک جمِ غفیر اکٹھا ہوگیا۔ مداحوں کا اصرار تھا کہ وہ ہوٹل کی بالکونی سے اپنی ایک جھلک دکھا دیں۔ اتفاق تھا کہ اس روز راج کپور کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور سیّد کمال بھی ان کے ساتھ تھے، راج کپور نے انھیں اپنی جگہ بالکونی میں بھیج دیا۔ پاکستانی اداکار کمال نے وہاں سے لوگوں کو دیکھ کر اپنا ہاتھ ہلایا اور مداحوں کی محبّت اور والہانہ عقیدت کا جواب دیا۔ کسی کو شک نہ ہوا کہ یہ راج کپور نہیں بلکہ پاکستانی اداکار سید کمال ہیں۔

اداکار کمال نے اسّی سے زائد فلموں میں رومانوی، المیہ اور مزاحیہ کردار ادا کیے اور اپنے دور کی مشہور اداکاراؤں زیبا، دیبا، نیلو، شبنم، نشو اور رانی کے ساتھ کام کیا۔ اردو فلموں کے علاوہ انھیں چند پنجابی اور ایک پشتو فلم میں‌ بھی کردار نبھانے کا موقع ملا۔ سید کمال کی مشہور فلموں میں زمانہ کیا کہے گا، آشیانہ، ایسا بھی ہوتا ہے، ایک دل دو دیوانے، بہن بھائی، ہنی مون سرفہرست ہیں۔ بحیثیت فلم ساز اور ہدایت کار ان کی فلمیں جوکر، شہنائی، ہیرو، آخری حملہ، انسان اور گدھا اور سیاست ہیں۔ انسان اور گدھا 1973ء میں پاکستانی سنیما کے لیے ریلیز کی گئی تھی جو بہت کام یاب رہی کیوں‌ کہ اس میں پہلی بار ایک جانور کو مرکزی خیال بنا کر کہانی لکھی گئی تھی۔ اس مرکزی خیال کے مصنف تنویر کاظمی تھے جب کہ کہانی سید کمال نے ہی لکھی تھی اور وہی اس فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی تھے۔ فلم میں ہیرو کا کردار بھی کمال نے ہی نبھایا تھا۔ فلموں سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں ناظرین نے پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں دیکھا اور ان کی اداکاری سے محظوظ ہوئے۔ سید کمال کو اپنے ٹیلی ویژن شو سے بھی خوب شہرت ملی تھی۔ مشہور ڈراما سیریل ’’کشکول‘‘ کے ایک کردار میں بھی کمال کو بہت مقبولیت ملی تھی۔

1985 کے عام انتخابات ہوئے تو سید کمال سیاست کے میدان میں اترے، مگر کام یابی نہ ملی۔ انہی انتخابات کے واقعات کو انھوں نے اپنی فلم ’’سیاست‘‘ میں‌ پیش کیا تھا۔ اداکار نے قلم اٹھایا تو اپنی خود نوشت سوانح تحریر کی۔ تین بار فلم نگری کا سب سے بڑا نگار ایوارڈ اپنے نام کرنے والے سید کمال کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں