site
stats
انٹرٹینمںٹ

گھریلو تشدد کے خلاف آگاہی کے لیے بنگلہ دیشی اشتہار وائرل

ڈھاکہ: دنیا بھر میں مختلف تنظیمیں، ادارے اور افراد خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف آگاہی اور ان کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات میں مصروف ہیں، تاہم اس سلسلے میں بنگلہ دیش میں بنایا جانے والا ایک آگہی اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

اشتہار کا آغاز ایک دلہن سے ہوتا ہے جس میں اسے شادی کی تقریب کے لیے تیار ہو کر جاتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

اگلے منظر میں وہی خاتون اپنے بال کٹوانے کے لیے سیلون میں موجود ہیں۔

ہیئر ڈریسر اس کی زلفیں دیکھ کر ان کی تعریف کرتی ہے مگر وہ اپنے بال چھوٹے اور مزید چھوٹے کروانے کے لیے اصرار کرتی ہے جس پر ہیئر ڈریسر ناگواری کا اظہار بھی کرتی ہے۔

آخر میں جب وہ خاتون اپنے بال چھوٹے کرنے کی وجہ بتاتی ہے تو وہاں موجود تمام افراد کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ وہ خاتون کہتی ہے، ’ان بالوں کو مزید کاٹ دو تاکہ دوبارہ کوئی انہیں جکڑ نہ سکے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 80 فیصد خواتین تشدد کا شکار

اس اشتہار کا مقصد بنگلہ دیش میں گھریلو تشدد کے اذیت ناک مسئلے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اشتہار کے آخر میں دکھایا گیا ہے، ’زلفیں ایک عورت کا فخر ہیں، اس فخر کو اس کی کمزوری مت بنائیں‘۔

بالوں کی آرائشی مصنوعات کی ایک کمپنی کی جانب سے بنائے جانے والے اس اشتہار کو 35 لاکھ افراد نے دیکھا۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش کی 87 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس تشدد کو ایک معمول کا عمل سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: عورت کے اندرونی کرب کے عکاس فن پارے

ادارے کی رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر اور کم تعلیم یافتہ ممالک، شہروں اور معاشروں میں گھریلو تشدد ایک عام بات ہے۔ خود خواتین بھی اس کو اپنی زندگی اور قسمت کا ایک حصہ سمجھ کر قبول کرلیتی ہیں اور اسی کے ساتھ اپنی ساری زندگی بسر کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین پر تشدد ان میں جسمانی، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ ان میں ایڈز کا شکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top