The news is by your side.

ڈھائی ہزارکیمروں کےساتھ ڈھائی کروڑآبادی کی نگرانی ممکن نہیں‘ آئی جی سندھ

کراچی: آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ میڈیا سے گزارش ہے تنقید ضرورکریں مگراچھا کام بھی بتائیں تنقید کرنے سے افسران کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے کہا کہ کراچی کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے جبکہ 50 فیصد لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔

اے ڈی خواجہ نے کہا کہ کراچی میں بہت سی آبادیاں ایسی ہیں جن کی دستاویزات سرے سے ہی نہیں ہیں، اسٹریٹ کرائمز روکنا ہماری ذمہ داری ہے مگر صرف پولیس کو ذمہ دار نہیں ٹہرایا جائے۔

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کہا کہ ڈھائی ہزارکیمروں کےساتھ ڈھائی کروڑآبادی کی نگرانی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 15 دن میں 200 اسٹریٹ کرمنل پکڑے جا چکے ہیں لیکن اس حوالے سے جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔

آئی جی سندھ پولیس نے کہا سوشل، الیکٹرانکس میڈیا کی معاشرے میں بہت خدمات ہیں، میڈیا کی وجہ سے بہت سی نظر نہ آنے والی چیزیں اب سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرقانونی بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، 3 مواقع دینے کے باوجود بیشتر برطرف اہلکار امیدوں پر پو

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جاچکا ہے، 3 مواقع دینے کے باوجود بیشتربرطرف اہلکارمعیار پر پورا نہیں اترسکے۔

آئی جی سندھ پولیس نے کہا کہ ہم نے انتظار کے والد کے تمام مطالبات مانے، پولیس نے انتظار کے والد کو خود اطلاع دی کہ واقعے میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو جرائم پیشہ افراد کی طرح سزا ملے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں