اے ڈی خواجہ کی برطرفی‘ سندھ حکومت کا عدالت میں بیانِ حلفی -
The news is by your side.

Advertisement

اے ڈی خواجہ کی برطرفی‘ سندھ حکومت کا عدالت میں بیانِ حلفی

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ تقرری کیس کی سماعت ہوئی جس میں صوبائی حکومت نے آئی جی سندھ کی برطرفی پر بیانِ حلفی جمع
کرادیا۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز جمعرات سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ تقرری کیس کے سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے سیکرٹری
سروسز کی جانب سے بیانِ حلفی جمع کرایا۔

سندھ حکومت کی جانب سے جمع کرائے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اےڈی خواجہ کی خدمات وفاق کےسپردکرنے پرتوہین عدالت نہیں
کی‘۔


قائم مقام آئی جی سندھ کا نوٹی فیکیشن معطل‘ عدالت کی اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت


 سیکرٹری سروسز کے مطابق اے ڈی خواجہ اوپی ایس پرکام کررہےتھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے انیتا تراب کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا‘
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

رواں ہفتے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کےتبادلے کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی ،عدالت نے استفسار کیا تھاکہ آئی جی سندھ کو ہٹانے پرتوحکم امتناع تھا انہیں کیسے ہٹایا گیا؟۔

سماعت کے دوران اےجی سندھ نے کہا کہ یہ اقدام عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آئی جی سندھ کو ہٹانے پرتو حکم امتناع تھا انہیں کیسے ہٹایا گیا؟۔

اے جی سندھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے توسپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے، جس پرعدالت نے فوری سوال کیا کہ کیا سندھ حکومت نےحکم امتناع کے خلاف سپریم کورٹ سےرجوع کیا تھا؟۔

انیتا تراب کیس


یاد رہے کہ انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ اگر کوئی سول سرونٹ کسی عہدے پر رکھا جا تا ہے تو وہ کم از کم اس
عہدے پر تین سال تک لازمی طور پر رہے گا، الا یہ کہ اس کیخلاف کسی کریشن ، بد عنوانی یا خلاف قانون کام کرنے کے شواہد موجود ہوں۔

سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کو تحفظ فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ حکام کے ہر فیصلے کو ماننے کے پابند نہیں اگراعلیٰ حکام کسی غیر قانونی کام کی
ہدایت جاری کریں تو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں افسران ان غیر قانونی فیصلوں کو ماننے سے انکار بھی کرسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں